فرانس میں برسوں کے بدترین فسادات — 2,400 گرفتار، 1,000 پولیس اہلکار زخمی، میکرون کا قوم سے خطاب

0
اے آئی سے بنی تصویر — رات کو احتجاج کا منظر، ٹارچ اور دھواں، کوئی اصل شخصیت نہیں

فرانس ہفتے کو برسوں کے بدترین فسادات کا گواہ بنا — فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق تقریباً 2,400 افراد گرفتار کیے گئے اور تقریباً 1,000 پولیس افسران اور جنڈارمری کے اہلکار زخمی ہوئے، جن میں 7 کی حالت تشویشناک ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اتوار کی رات ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں اس تشدد کو “بے لگام” قرار دیتے ہوئے کہا: “بے لگام تشدد کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔”

میکرون کا خطاب — ہنگامی حالت کیوں نہیں؟

میکرون نے کہا کہ مقامی حکام “اگر ضروری ہوا” تو ریلیوں پر پابندی لگا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے ریاستِ ہنگامی یا کرفیو کے اعلان سے گریز کیا۔ انہوں نے مظاہرین کے “جائز مطالبات” تسلیم کیے لیکن تشدد کا ذمہ دار “انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند گروپوں کے اشتعال انگیز عناصر کو، جن میں متعدد مجرم بھی شامل تھے” قرار دیا۔ وزیراعظم سیباستین لکورنو کے مطابق 150 افسران زخمی ہوئے۔

تباہی کی تفصیل — تاریخی عمارتیں بھی جل گئیں

لیموژ میں 19ویں صدی کی تاریخی ٹاؤن ہال عمارت جان بوجھ کر آگ لگائی گئی، جس کی چھت گر گئی۔ پیرس، لیون اور مارسیل سمیت کئی شہروں میں دکانوں کو لوٹا گیا۔ ملوحس میں ایک 17 سالہ نوجوان کی آنکھ ضائع ہو گئی۔

اتوار کو بھی جھڑپیں — ٹرمپ کا ردعمل

اتوار کو پیرس کے پلیس ڈے لا ریپبلک پر پولیس نے آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ استعمال کیے — 108 گرفتاریاں ہوئیں اور کم از کم 5 دکانیں لوٹی گئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا “فرانس جل رہا ہے!” اور اس انتشار کا ذمہ دار امیگریشن کو قرار دیا۔

ماخذ: ملی میل (اے ایف پی)، گلف نیوز، بزنس ٹوڈے، آؤٹ لک انڈیا — تمام مضامین 19 اکتوبر 2026 کے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *