وزیراعظم کی ایف بی آر کو آخری وارننگ — کرپشن اور ناقص کارکردگی کرنے والوں کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں

0

اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن یا مسلسل ناقص کارکردگی کرنے والوں کی ٹیکس مشینری میں کوئی جگہ نہیں رہے گی۔

پیر کے روز ایف بی آر امور کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اصلاحات کی رفتار تیز کرنے اور تمام ٹیکس وصولی کے عمل میں “فیس لیس” نظام متعارف کرانے کا حکم دیا، تاکہ افسران کے اختیارات محدود اور شفافیت بہتر ہو۔

“اصلاحات قومی مفاد میں ہیں، جاری رہیں گی”

وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحات ریاست کے بڑے مفاد میں ہیں اور ہر حال میں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کرپٹ افسران کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے، جبکہ وہ افسر اور عملہ جو اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری دکھا رہے ہیں، انہیں اصلاح کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے ٹیکس کے فرق (ٹیکس گیپ) کو کم کرنے پر زور دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین برسوں میں ٹیکس گیپ جی ڈی پی کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد پر آ گیا ہے۔

تیسرے فریق کے آڈٹ سے چار گنا اضافہ

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ٹیکنالوجی، آپریشنل طریقہ کار اور انسانی وسائل میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے افسران کے صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

قابلِ ذکر اقدام کے طور پر میرٹ کی بنیاد پر معاہدے پر 957 آڈیٹرز بھرتی کیے گئے ہیں، جنہوں نے ایف بی آر کی آڈٹ کی صلاحیت کو چار گنا بڑھا دیا ہے۔

نئے بھرتی ہونے والے افسران لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ موجودہ عملے کے لیے تربیتی پروگرام جاری ہیں۔ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے “پئیر ریٹنگ” نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

دو افسر معطل، قلم بند ہڑتال کی کال واپس

دریں اثنا، ایف بی آر نے ان لینڈ ریونیو سروس کے دو افسروں — ایک بی ایس 20 اور ایک بی ایس 19 — کو معطل کر دیا، جبکہ دو دیگر بی ایس 20 افسروں کو غیر مجاز پریس بیان اور کام بند کرنے کی کال پر مزید تفتیش کے لیے ہیڈکوارٹر واپس بھیج دیا۔

یاد رہے کہ ان لینڈ ریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن نے “قلم بند” ہڑتال کی کال دی تھی، جو بعد میں ممبر انتظامیہ اور ممبر آپریشنز سے ملاقات کے بعد واپس لے لی گئی۔

پس منظر — ڈیجیٹل نگرانی کا دسمبر ڈیڈ لائن

یہ وارننگ اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ گذشتہ ہفتے وزیراعظم نے تمام صنعتی شعبوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ کے خودکار نظام کی تنصیب کی تمام رکاوٹیں دور کرنے کا حکم دیا تھا، جس کی ڈیڈ لائن 31 دسمبر 2026 مقرر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ صارفین سے ٹیکس وصول کر کے قومی خزانے میں جمع نہ کرانے والی کاروباریں کسی رعایت کی مستحق نہیں۔

(ماخذ: ڈان، بزنس ریکارڈر، ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے کی رپورٹس پر مبنی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *