ریاض ایئرپورٹ حملے میں شہید باجوڑ کے محنت کش رضوان اللہ — سعودی عرب میں روزگار کی خاطر گئے تھے، ادھورا گھر اور تین بچے چھوڑ گئے

0

یمن کے حوثیوں کی جانب سے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 11 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں شہید ہونے والے پاکستانی محنت کش کی شناخت 38 سالہ رضوان اللہ کے طور پر ہوئی ہے — جو باجوڑ کے ایک پہاڑی گاؤں سے روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے تھے اور ایئرپورٹ پر مسافروں کا سامان اٹھانے والے پورٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔

خاندان کی دکھ بھری کہانی

رضوان اللہ کے 62 سالہ والد عزیز اللہ خان ایک کسان ہیں۔ جب سعودی عرب سے واپس آنے والا ایک ہم وطن تعزیت کے لیے ان کے گھر آیا تو بوڑھے باپ کی آنکھوں میں وہی خواب تیرنے لگے جو ان کا بیٹا پورا نہ کر سکا — گھر کی تعمیر مکمل کرنا اور بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرنا۔ رضوان اللہ نے پیچھے اہلیہ، آٹھ اور چار سال کے دو بیٹے، ایک سال کی بیٹی اور اپنے بوڑھے والدین کو چھوڑا ہے — یہ سب ان کی محنت کی کمائی پر گزارا کرتے تھے۔ خاندان باجوڑ میں افغانستان کی سرحد کے قریب اپر سلارزئی کے گاؤں الامان میں رہتا ہے، جہاں روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کو خلیجی ممالک جانے پر مجبور کرتے ہیں۔

سعودی حکام کا بیان

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے تصدیق کی ہے کہ 11 اکتوبر کے حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ سعودی قیادت والی اتحادی فوج کے ترجمان کے مطابق ایک نامعلوم پروجیکٹائل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر گرا جس سے مسافر ہال میں آگ لگ گئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا اور نقصان کا جائزہ ابھی جاری ہے۔ یہ دو دن میں ریاض ایئرپورٹ پر دوسرا حملہ تھا — اس سے ایک روز قبل کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے تھے۔ یمن کے حوثی تحریک نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سعودی عرب میں پاکستانی محنت کش

سعودی عرب میں تقریباً 27 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور یہ ملک پاکستان کے لیے مزدوروں کی ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ رضوان اللہ جیسے لاکھوں محنت کش اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک کام کرتے ہیں۔

ذرائع: عرب نیوز پی کے، اے ایف پی (21 اکتوبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *