عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کا بڑا تشویش ناک بیان — اسد قیصر: “کسی بھی نقصان کی صورت میں حکومت کے تابوت میں آخری کیل ہوگی”

0

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم کو فوری اور غیر محدود رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

اسد قیصر کا سخت بیان

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سخت بیان جاری کیا۔ ان کے مطابق پارٹی “واضح اور غیر مبہم طور پر” عمران خان تک اہل خانہ اور وکلاء کی فوری، بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں شفاف اور سرکاری وضاحت جاری کی جائے تاکہ “بے بنیاد افواہوں کا سلسلہ ختم ہو اور قوم کو سچ معلوم ہو”۔ اسد قیصر کے الفاظ میں: “عمران خان پاکستانی قوم کی شناخت ہیں۔ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو یہ اس غیر قانونی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔”

پارٹی ترجمان کی وارننگ

پی ٹی آئی کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی نے الگ بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت اور اہل خانہ و وکلاء کی ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹوں کی اطلاعات پر پارٹی کو گہری تشویش ہے۔ ان کے بقول، “ملاقاتوں پر پابندی یا غیر واضح پابندیاں بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور صرف شبہات کو بڑھاتی ہیں”۔ ترجمان نے رسائی کی فوری بحالی اور عمران خان کی طبی صورتحال پر سرکاری شفاف اپڈیٹ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ معلومات چھپانا اور ملاقاتیں روکنا “مکمل طور پر ناقابل قبول اور غیر قانونی” ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ پابندیاں نہ ہٹائیں گئیں تو “ہر آئینی اور قانونی راستہ” اپنایا جائے گا۔

پس منظر اور حکومت کی خاموشی

دی نیوز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے حکومت سے رابطہ کر کے عمران خان کی تینوں بہنوں کی رہائی — جن کی 30 روزہ حراست کی مدت پوری ہو چکی ہے — اور بشریٰ بی بی سے خاندانی ملاقاتوں کی بحالی کی درخواست کی ہے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر کے حوالے سے بتایا گیا کہ پارٹی اہل خانہ تک رسائی معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ انڈیپینڈنٹ نیوز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک جیل حکام یا حکومت کی جانب سے عمران خان کی صحت یا ملاقاتوں کی مبینہ پابندیوں کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ نوٹ: یہ خبر پی ٹی آئی کے دعوؤں اور انڈیپینڈنٹ نیوز پاکستان کی رپورٹنگ پر مبنی ہے؛ دعوے کی تصدیق کا سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *