سندھ کے تین انسداد دہشت گردی عدالتوں کے جج بحال — وفاقی آئینی عدالت نے صوبائی حکومت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا
وفاقی آئینی عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے عمر کی حد کے قانون کے تحت ہٹائے گئے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے تین ججوں کو بحال کر دیا اور صوبائی حکومت کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے بدھ کو تینوں ججوں — محمد یمین، عبیداللہ خان اور سید ذاکر حسین — کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے حیدرآباد سرکٹ بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس محمد کریم خان آغا کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں صوبائی حکومت کا ججوں کو عہدوں سے ہٹانے والا نوٹیفکیشن “قانونی اختیار کے بغیر اور بے اثر” قرار دیا گیا۔
عمر کی حد والا قانون تنازع کی جڑ
تنازع کی بنیاد انسداد دہشت گردی (سندھ ترمیمی) ایکٹ 2025 تھا جس کے ذریعے ان عدالتوں کے ججوں کے لیے 65 سال کی بالائی عمر کی حد مقرر کی گئی تھی۔ اس ترمیم کے بعد صوبائی حکومت نے متعدد ججوں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا تھا حالانکہ ان کی مقررہ میعاد ختم نہیں ہوئی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ نئی عمر کی حد کا اطلاق ترمیم سے پہلے کی گئی مقررہ مدت کی تقرریوں پر ماضی سے نہیں ہو سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جو تقرری اس وقت کے نافذ قانون کے تحت مقررہ مدت کے لیے کی گئی ہو، اس سے حاصل شدہ حق واضح قانونی شق کے بغیر واپس نہیں لیا جا سکتا۔
محمد یمین کا کیس
محمد یمین کو 19 ستمبر 2024 کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 14(2) کے تحت اے ٹی سی-IV کراچی کا جج مقرر کیا گیا تھا اور ان کی ڈھائی سالہ مدت مارچ 2027 میں مکمل ہونی تھی۔ تقرری کے وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی تاہم اس وقت قانون میں اے ٹی سی ججوں کے لیے عمر کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں تھی۔
فیصلے کے بعد تینوں جج اپنی اپنی مقررہ میعاد کی تکمیل تک عہدوں پر برقرار رہیں گے۔
(ذرائع: اے آر وائی نیوز، بلوم پاکستان، 99 نیوز اور میڈیا رپورٹس)