ورلڈ بینک کی بڑی وارننگ — مالی سال 2026-27 میں پاکستان میں مہنگائی 8.2 فیصد تک پہنچ جائے گی، نمو صرف 3.8 فیصد
ورلڈ بینک کی بڑی وارننگ — مالی سال 2026-27 میں پاکستان میں مہنگائی 8.2 فیصد تک پہنچ جائے گی، نمو صرف 3.8 فیصد
ورلڈ بینک نے اکتوبر 2026 کے اقتصادی آؤٹ لک میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو مالی سال 2026-27 میں صرف 3.8 فیصد رہے گی، جبکہ مہنگائی بڑھ کر 8.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ بینک کے مطابق عالمی اجناس کی بلند قیمتوں، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مقامی خوراک کی قیمتوں کے دباؤ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
نمو اور مہنگائی کے تازہ ترین تخمینے
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی نمو مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد تھی، جو 2026-27 میں بڑھ کر 3.8 فیصد ہو جائے گی۔ تاہم اوسط سرخی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) 7.1 فیصد سے بڑھ کر 8.2 فیصد ہو جائے گی۔ درمیانی مدت میں نمو بتدریج بہتر ہو کر مالی سال 2031 تک تقریباً 4.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے — لیکن مستقل 6 فیصد سالانہ نمو کے لیے تیز تر ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
نوکریوں کا بحران — بڑی وارننگ
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ محض معاشی نمو بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات پوری نہیں کر سکے گی۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2018-19 کے تقریباً 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری، نجی شعبے کے اعتماد اور پیداواری روزگار کے بغیر بحالی عام گھرانوں تک نہیں پہنچے گی۔
مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟
رپورٹ کے مطابق فروری سے جون 2026 کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 36 فیصد، ڈیزل میں 31 فیصد اور ایل پی جی میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی 30 فیصد بڑھے۔ مئی 2026 میں مہنگائی 11.7 فیصد کی بلند ترین سطح کو چھو گئی تھی۔ مشرق وسطیٰ کے تنازع، ایل نینو موسمی اثرات اور بیرونی مالیاتی دباؤ بحالی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مثبت پہلو اور خدشات
مثبت پہلو یہ ہے کہ ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کی ہے اور ملک نے بین الاقوامی مارکیٹ میں 750 ملین اور 3 ارب ڈالر کے یوروبانڈز جاری کیے ہیں۔ تاہم ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ طویل علاقائی تنازع توانائی کی درآمدات کا بل بڑھا سکتا ہے اور بیرونی مالیاتی ضروریات پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی 2026-27 میں بڑھنے کا امکان ہے، جسے ترسیلات زر کسی حد تک پورا کریں گی۔
ذرائع: میٹس گلوبل، دی بلائنڈ سائیڈ، ڈیلی دی ڈیسٹینیشن، نیشن پلس