عمران خان کی بہنوں کا کیس — ہوم سیکریٹری 28 اکتوبر کو طلب

0

لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز (جمعرات) عمران خان کی تین بہنوں کی نظر بندی کے کیس میں پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ دونوں افسران کو رپورٹس کے ساتھ عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ یہ حکم علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان کی تازہ درخواست پر جسٹس ابھر گل خان کی عدالت نے دیا۔

گرفتاریوں کا پس منظر — ایم پی او کے تحت نظر بندی

واضح رہے کہ علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان گزشتہ ماہ سے نظربند ہیں۔ ان کی نظر بندی تحریک انصاف کے احتجاج کے تناظر میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت عمل میں آئی۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو تیس روز کے لیے نظربند کیا گیا تھا — یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج سے پہلے کی گئیں، جو بعد میں ملتوی کر دیا گیا۔

عدالت میں سماعت — احکامات کی مدت ختم ہونے کے باوجود حراست

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں بہنوں کے نظر بندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ تاحال لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں زیر حراست ہیں۔ علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان نے ایک روز قبل تازہ درخواست دائر کی ہے جس میں تینوں خواتین کی رہائی اور پیشی کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا، جنہوں نے نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔ وکیل نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنر کو اس لیے فریق نہیں بنایا کیونکہ ان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عظمیٰ خان کے شوہر اہد خان نے عدالت سے ڈپٹی کمشنر لاہور کو بھی طلب کرنے کی درخواست کی، جس پر جسٹس ابھر گل نے ریمارکس دیے کہ جب متعلقہ افسر کو کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا تو انہیں طلب نہیں کیا جا سکتا۔

28 اکتوبر کی سماعت کیوں اہم ہے

یہ کیس تحریک انصاف کے لیے اہم سیاسی اور قانونی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں پارٹی کے بانی کے قریبی خاندان کی آزادی کا معاملہ زیر بحث ہے۔ 28 اکتوبر کی سماعت میں دونوں افسران کو رپورٹس کے ساتھ پیش ہونا ہے — اس سماعت کے بعد کیس کی سمت کا تعین ہو گا کہ آیا نظر بندی کے احکامات قانونی طور پر برقرار رہیں گے یا انہیں کالعدم قرار دے کر تینوں بہنوں کی رہائی کا حکم دیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے لیے ایک اور سیاسی امتحان

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی پہلے ہی کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے — پارٹی نے حال ہی میں عمران خان کی صحت پر بھی ایک تشویش ناک بیان جاری کیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائی بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس سخت نوٹس کے بعد حکومت کے لیے اس کیس میں اپنا مؤقف عدالت میں واضح کرنا لازمی ہو گیا ہے، اور 28 اکتوبر کی سماعت پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے بھی اہم سیاسی سگنل ہوگی۔

ذرائع: دی نیوز، جیو نیوز، دنیا نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *