تیل 111 ڈالر سے اوپر — خلیج فارس میں 7 بحری جہاز تباہ

0

جمعرات (22 اکتوبر) کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 111 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں، جب ایران کی پاسداران انقلاب کی بحری فورس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے خلیج فارس میں چار تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی، جبکہ مزید تین بحری جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر متاثر ہوئے۔ یہ دعویٰ آئی آر جی سی کی طرف سے سامنے آیا ہے اور کسی آزاد ذریعے نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایشیائی مارکیٹوں میں جمعرات کے دوران تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سات بحری جہازوں کا دعویٰ — آئی آر جی سی کیا کہتی ہے

آئی آر جی سی کی بحریہ کے مطابق اس کی افواج نے خلیج فارس کے شمالی حصے میں تیل کی منتقلی میں مصروف چار ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ تین مزید بحری جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔ آئی آر جی سی نے امریکا کو بھی خبردار کیا کہ مزید اشتعال انگیزی کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف وسیع تر جوابی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس دعوے کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی رسد میں رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ایران نے خلیج فارس میں جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا — آج کے بیان میں سات جہازوں کا تازہ ترین دعویٰ سامنے آیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں دھماکہ — برینٹ 111 ڈالر سے اوپر

آئل پرائس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق خبروں کے وقت برینٹ کروڈ کی قیمت 111.10 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 98.98 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا — دونوں میں بدھ کے مقابلے میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب کے اہداف پر تازہ حملوں کے بعد قیمتوں میں یہ اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکا کا سفارتکاروں کو سعودی عرب سے واپس بلانے کا حکم

یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافے کے بعد امریکا نے مملکت میں موجود غیر ضروری سرکاری اہلکاروں، سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس فیصلے سے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

حوثیوں کے حملوں میں حالیہ اضافہ اسی پس منظر میں ہوا ہے جب سعودی عرب کے دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔

شیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملے — 2 افراد جاں بحق

بدھ کو سعودی عرب کے سب سے بڑے تیل کے کھیتوں میں سے ایک، شیبہ فیلڈ کے قریب روکے گئے ڈرونز کے ملبے سے دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی تفصیلات گزشتہ روز کی رپورٹ میں پڑھیں۔ آئل پرائس کی رپورٹ کے مطابق شیبہ فیلڈ اور اس کی پروسیسنگ تنصیبات کا آپریشن متاثر نہیں ہوا، تاہم اس حملے نے منڈیوں میں ہلچل مچا دی، کیونکہ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے اپنی برآمدات بڑی حد تک بحال کر لی تھیں۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کی کارروائیوں کا جواب ہیں، جو جنوب مغرب میں بحیرہ احمر اور باب المندب آبنائے کے اہم علاقوں پر دوبارہ قبضے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران کے تیرتے تیل کے ذخائر ختم — وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ

ایک اور متعلقہ پیش رفت میں وال اسٹریٹ جرنل نے کیپلر کے ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے تیرتے تیل کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں ناکہ بندی سے قبل ایران کے پاس تقریباً 150 ملین بیرل تیل تیرتی ذخیرہ گاہوں میں تھا، جو اکتوبر کے وسط تک کم ہو کر صرف 866,000 بیرل رہ گیا۔ کیپلر کے خام تیل کے تجزیہ کے سربراہ کے مطابق اب “چین کو بھیجنے کے لیے مزید تیل نہیں بچا”۔

ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی معیشت نے بہترین لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور معیشت کے تباہ ہونے کے دعوے “وہم” کے سوا کچھ نہیں۔

ذرائع: آئل پرائس ڈاٹ کام، رائٹرز، وال اسٹریٹ جرنل، دی نیشنل نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *