پی ایچ پی میں خطرناک خامی — دنیا بھر میں سرکاری ویب سائٹس بند
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے انٹرنیٹ کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی میں دو انتہائی خطرناک خامیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکا میں حکومتوں اور اداروں نے اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دیں۔ امریکی وفاقی تفتیشی ادارے (ایف بی آئی) کے سائبر ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ ان خامیوں سے ہیکرز دور بیٹھے ویب سرورز پر اپنا کوڈ چلا سکتے ہیں — جس سے حساس ڈیٹا اور نیٹ ورکس کے خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تین کروڑ سے زائد ویب سائٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔
خامی کتنی خطرناک ہے — شدت 9.2
سائبر سیکیورٹی فرموں کیلیف اور وز (گوگل کی ملکیت) کے محققین نے اے آئی ایجنٹوں کے ذریعے ان خامیوں کو دریافت کیا، جنہیں CVE-2026-109618 اور CVE-2026-109619 نمبر دیے گئے ہیں۔ دونوں خامیوں کو 9.2 شدت کی درجہ بندی ملی ہے — یہ انتہائی خطرناک کیٹیگری ہے۔ سائبر سیکیورٹی فرم آرکٹک ولف کے نائب صدر اسماعیل والینزویلا کے مطابق پی ایچ پی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس میں استعمال ہوتی ہے جہاں سرور کی پروگرامنگ زبان معلوم ہے، اس لیے “ممکنہ اثر انتہائی وسیع” ہو سکتا ہے۔
حکومتی ویب سائٹس کیوں بند ہوئیں
بدھ (21 اکتوبر) کو فن لینڈ کی حکومتی ویب سائٹس مکمل یا جزوی طور پر بند رہیں — صارفین کو پیغام دکھایا گیا کہ ویب سائٹس عارضی طور پر دستیاب نہیں اور مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔ نیدرلینڈز، فرانس، بیلجیم اور ڈنمارک میں بھی حکومتی ویب سائٹس بند یا متاثر ہوئیں۔ ایف بی آئی نے آپریٹروں کو ہدایت کی کہ اگر فوری اپ ڈیٹ ممکن نہ ہو تو ویب سائٹس کو بند کر دیا جائے۔ برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر نے بھی کہا کہ جہاں فوری مرمت ممکن نہ ہو وہاں نظام کو آف لائن کر دیا جائے۔
ورڈپریس سمیت مقبول پلیٹ فارم خطرے میں
یاد رہے کہ ورڈپریس — جو اس وقت دنیا کی سب سے مقبول ویب سائٹ بنانے والی ٹیکنالوجی ہے — سمیت ڈروپل، جوملا اور میجینٹو جیسے مقبول پلیٹ فارم بھی پی ایچ پی پر چلتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی کے پروفیسر ایلن وڈورڈ کے مطابق یہ خامیاں حملہ آوروں کو ویب سرور پر اپنا کوڈ چلانے اور “جو چاہے کرنے” کی صلاحیت دے سکتی ہیں — جس میں ذاتی ڈیٹا کی چوری، نیٹ ورک کے دیگر حصوں تک رسائی یا مستقبل کے حملوں کے لیے خفیہ راستے بنانا شامل ہے۔
یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کی سائبر دنیا میں بڑھتی ہوئی کردار کا تازہ ترین ثبوت ہے — جہاں پہلے اے آئی کو دفاع میں استعمال کیا جاتا تھا، اب اسی ٹیکنالوجی سے ہتھیار بنانے والی خامیاں بھی دریافت ہو رہی ہیں۔
انکشاف کیسے ہوا — دو ماہ کی خفیہ کوشش
اوپن اے آئی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ اس نے پچھلے دو ماہ کے دوران محققین، سیکیورٹی فراہم کنندگان اور دیگر کے ایک اتحاد کی قیادت کی تاکہ پی ایچ پی میں خامیاں تلاش کر کے ان کا سدباب کیا جا سکے — اس پروگرام کو “پیچ دی پلانیٹ” کا نام دیا گیا۔ عام طور پر اس طرح کی خامیاں خفیہ طور پر نمٹائی جاتی ہیں، لیکن تفصیلات پیچ جاری ہونے سے پہلے آن لائن لیک ہو گئیں۔ پی ایچ پی فاؤنڈیشن نے 21 اکتوبر کو اصلاحات (پatches) جاری کیں اور نظام اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایات بھی فراہم کیں۔
ہیکرز پہلے ہی سرگرم — کیا کرنا چاہیے
رپورٹس کے مطابق ایمیزون نے انکشاف سے چار دن پہلے ہی ہیکرز کی جانب سے اس خامی کے استحصال کی کوششیں دیکھی تھیں، اور اب یہ خامیاں “وسیع پیمانے پر استعمال” ہو رہی ہیں۔ سائبر ایجنسیوں کی ہدایت ہے کہ ویب سائٹ مالکان فوری طور پر تازہ ترین پی ایچ پی ورژن (8.5.12، 8.4.27، 8.3.36 یا 8.2.35) انسٹال کریں، یا جب تک پیچ نہ لگ جائے اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند رکھیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس طرح کے بڑے واقعات عام صارفین کے لیے بھی یاد دہانی ہیں کہ موبائل اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میں سیکیورٹی اپ ڈیٹس کتنی اہم ہیں۔
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، ٹیک ایکسپلور، بی بی سی، اوپن اے آئی بلاگ