فرانس میں آج ملک گیر مظاہرے — 70,000 پولیس اہلکار، لوور میوزیم بند
فرانس میں آج 24 اکتوبر، ہفتہ کو مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں سے پہلے فرانسیسی حکام نے پورے ملک میں تقریباً 70,000 پولیس افسران اور جنڈارمری تعینات کر دیے ہیں، جبکہ پیرس کے مشہور لوور میوزیم سمیت کئی بڑے عجائب گھر بند کر دیے گئے ہیں۔ حکام کو تشویش ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والا بدترین تشدد دوبارہ نہ ہو جائے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تعیناتی میں ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن بھی شامل ہیں، جبکہ ایلیٹ پولیس یونٹس عوامی عمارتوں کی حفاظت کے لیے “انتہائی متحرک” سیکیورٹی آپریشن میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف “بالکل کوئی نرمی نہیں” برتی جائے گی اور گرفتاریوں کے لیے “بہت سخت رویہ” اپنایا جائے گا۔
مہنگائی کے خلاف احتجاج
مظاہرین آج سڑکوں پر نکل کر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کریں گے۔ ان میں طلبہ، سی جی ٹی مزدور یونین کے اراکین اور “یلو ویسٹ” تحریک کے کارکن شامل ہیں، جن کے 2018 اور 2019 کے مظاہروں نے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پیرس اور مارسیل سمیت کئی شہروں میں مارچ متوقع ہیں، اگرچہ لیون، نیس اور مونپیلیے سمیت کئی شہروں میں سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بعض مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
وزیر داخلہ نونیز کے مطابق سوشل میڈیا پر شدت پسند گروپوں کی جانب سے “تشدد اور توڑ پھوڑ کی متعدد اپیلیں” اور لوٹ مار کی تازہ اپیلیں سامنے آئی ہیں، جو واضح طور پر فسادیوں کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں۔
گزشتہ ہفتے بدترین تشدد
گزشتہ ہفتے کے مظاہروں میں لوگوں نے آگ لگائی، عوامی عمارتوں پر دھاوا بولا، دکانوں کے شیشے توڑے، لوٹ مار کی اور پولیس سے جھڑپیں کیں — جو برسوں کا بدترین فساد قرار دیا گیا۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ 17 اکتوبر کو ملک بھر میں تقریباً 550,000 افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔
ثقافتی ادارے بند، آرٹ میلا منسوخ
فرانسیسی وزارت ثقافت نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ لوور، اورسے، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پالے بند رہیں گے، اور تمام متعلقہ اداروں سے “زائرین کی حفاظت، عملے کی حفاظت اور فن پاروں کے تحفظ” کے لیے ضروری اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔ آرٹ باسل پیرس — دنیا کا معتبر ترین عصری آرٹ میلا جس میں 41 ممالک کی 211 گیلریاں شامل تھیں — نے ہفتے کے آخر کے پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کا دن اس بات کا بڑا امتحان ہوگا کہ کیا فرانسیسی حکام بڑے پرامن مظاہروں اور تشدد پر آمادہ گروپوں کے درمیان فرق قائم کر پائیں گے۔
مزید عالمی خبریں اور یہاں۔
ماخذ: دی ہندو، ایسوسی ایٹڈ پریس، منیلا ٹائمز کی رپورٹس