پولیو مہم 2 نومبر سے — 2 کروڑ 39 لاکھ بچے
پاکستان میں آج (24 اکتوبر) ورلڈ پولیو ڈے کے موقع پر پولیو کے مکمل خاتمے کا عزم دہرایا گیا ہے، اور 2 سے 8 نومبر تک ملک بھر میں تیسری قومی ضمنی پولیو مہم چلائی جائے گی۔ اس مہم میں 97 اضلاع کے 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کے پی میں 43 لاکھ بچے — 20,500 ٹیمیں میدان میں
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 نومبر سے شروع ہونے والی مہم میں صوبے کے 27 اضلاع کے 43 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ اس کے لیے 20,500 سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ تقریباً 30 ہزار سیکیورٹی اہلکار پولیو ورکرز کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔ سندھ میں پولیو کیس سامنے آنے پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ہنگامی اجلاس بلا کر تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔
صوبائی سیکرٹری صحت مطیع اللہ خان کی زیر صدارت خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں ورلڈ پولیو ڈے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں یونیسف، ڈبلیو ایچ او، روٹری انٹرنیشنل اور گیٹس فاؤنڈیشن کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ سیکرٹری صحت نے پولیو ورکرز کی جانفشانی کو سراہا اور کہا کہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ رکھنا قومی ذمہ داری ہے۔
مریم نواز کا پیغام — پنجاب میں رواں سال صفر کیس
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورلڈ پولیو ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پنجاب میں رواں سال اب تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق صوبے کے 13 ہائی رسک اضلاع میں ایک کروڑ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں، اور ماحولیاتی نمونوں کی باقاعدہ جانچ سے وائرس کی نگرانی جاری ہے۔
مریم نواز نے والدین سے اپیل کی کہ ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو کے دو قطرے ضرور پلائیں، کیونکہ ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کی مہم کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ڈبلیو ایچ او و ضلعی انتظامیہ مہم کی نگرانی کرے گی۔
عالمی صورتحال — 48 کیس، 4 لاکھ فرنٹ لائن ورکرز کو خراج
عالمی سطح پر ڈبلیو ایچ او کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جنگلی پولیو وائرس کے 48 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے 42 افغانستان اور 6 پاکستان میں سامنے آئے ہیں — جو پاکستان کے لیے واضح بہتری کی علامت ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
وزیر مملکت ڈاکٹر بھرتھ نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان صرف صحت کا ہدف نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے صحت مند مستقبل کا وعدہ ہے۔ انہوں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ورکرز کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ عالمی صحت کے میدان میں فرانس میں شامونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ذرائع: ڈان، دی نیشن، دنیا نیوز، بزنس ریکارڈر، اے پی پی/اردو پوائنٹ — 24 اکتوبر 2026