اردن چرچ حملے کی پاکستان کی مذمت — دفتر خارجہ کا بیان
پاکستان نے اردن کے صوبے کرک میں ایک چرچ میں جنازے کے اجتماع پر ہونے والے مسلح حملے کی شدید مذمت کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے ہفتہ (24 اکتوبر) کو جاری بیان میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان ہاشمی مملکت اردن کی حکومت، عوام اور قیادت سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور دہشت گردی کی ہر صورت کی شدید ترین مذمت دہراتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پُرامن سوگواروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انسانیت اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
حملہ کیسے ہوا — کرک کے حمود میں جنازہ نشانہ
اردنی حکام کے مطابق جمعے کی سہ پہر کرک گورنریٹ کے گاؤں حمود میں ایک گریک آرتھوڈاکس چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ جنازے میں تقریباً 150 سے 200 سوگوار شریک تھے۔ اردن کی پبلک سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں زخمیوں کی تعداد کم بتائی گئی تھی۔
سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں حملہ آوروں کو چرچ کے داخلی دروازے پر فائرنگ کرتے دیکھا گیا — ان میں سے دو کے ہاتھ میں پستول اور ایک کے پاس رائفل تھی۔ اردن کے وزیر داخلہ مازن الفرایہ نے حملہ آوروں کو انتہا پسند گروہ قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ حملہ آوروں کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی — پولیس کی تلاش جاری ہے۔
عالمی ردعمل — ‘خاص طور پر گھناؤنا’ حملہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان نے کہا کہ عبادت گاہ پر اور وہ بھی جنازے کے دوران حملہ ‘خاص طور پر گھناؤنا’ عمل ہے۔ اردن میں چرچ پر فائرنگ کا یہ واقعہ جمعے کو پیش آیا تھا جس کے بعد اردنی بادشاہ شاہ عبداللہ نے سخت ترین جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا تھا۔ استنبول میں R4 ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں بھی علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کی مذمت شامل تھی۔
ذرائع: 24 نیوز ایچ ڈی، اردو پوائنٹ/اے پی پی، ڈیلی پاکستان، پاکستان آبزرور — 24 اکتوبر 2026