میر رضا کیس: جے آئی ٹی تشکیل، اداروں کو خطوط

0

سندھ حکومت نے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔ جے آئی ٹی کی سربراہی ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عرفان بلوچ کریں گے، اور سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ اداروں کو خطوط لکھ کر سات دن کے اندر افسران کی نامزدگی مانگی ہے۔ یہ پیش رفت جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کا حصہ ہے، جس نے پولیس کی ابتدائی تفتیش کو ناکام قرار دیا تھا۔

جے آئی ٹی میں کون شامل ہوگا؟

جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے شامل ہوں گے۔ سندھ حکومت نے ان اداروں سے گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے افسران کی نامزدگی طلب کی ہے، جبکہ این سی سی آئی اے سے ڈیجیٹل فارنزک ماہر مانگا گیا ہے، کیونکہ تحقیقات میں فونز، ایپل واچ، آئی کلاؤڈ، سوشل میڈیا اور بائنانس کرپٹو کرنسی ریکارڈ شامل ہیں۔ 23 اکتوبر کی تاریخ والے خطوط میں نامزدگیاں سات دن میں بھیجنے کو کہا گیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے مطابق جے آئی ٹی کو قانونی کارروائی مکمل کر کے عدالت میں چالان پیش کرنے کا اختیار ہوگا۔

پولیس کے کردار کی الگ تحقیقات

جے آئی ٹی کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت نے دو مزید کمیٹیاں بھی بنائی ہیں۔ ایک کمیٹی، جس کی سربراہی گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے ایف آئی اے افسر کریں گے، پولیس کے کردار، مبینہ غفلت اور ابتدائی دس دن کی تفتیش میں کوتاہیوں کا جائزہ لے گی، اور اس میں ڈی آئی جی عرفان بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ بھی شامل ہوں گے۔ اس کے لیے وفاقی وزارت داخلہ سے ایف آئی اے افسر کی نامزدگی مانگی گئی ہے۔ دوسری، ایک رکنی کمیٹی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لارک پر مشتمل ہے، جو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لے گی، جن میں انسپکٹر غوث کے کرائم سین جلانے میں مبینہ کردار کا معاملہ بھی شامل ہے، اور اپنی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرے گی۔

کیس کا پس منظر کیا ہے؟

میر رضا علی، 25 سالہ تاجر، 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہوئے تھے، اور ان کی لاش اگلے روز گلستان جوہر میں ملی تھی۔ پولیس نے ابتدا میں خودکشی کا شبہ ظاہر کیا تھا، لیکن اہل خانہ کا موقف تھا کہ انہیں اغوا کر کے قتل کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی، جس میں کہا گیا کہ طبی اور جسمانی شواہد خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے اور پولیس تفتیش “تباہ کن ناکامی” تھی۔ اہل خانہ شروع سے ہی جے آئی ٹی کا مطالبہ کر رہے تھے، اور اب اس کی تشکیل کو کیس میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: میر رضا کیس میں جے آئی ٹی کی سمری وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال ہوئی تھی — https://niazitvnews.com/?p=1359 اور جوڈیشل کمیشن نے پولیس تفتیش کو ناکام قرار دیا تھا — https://niazitvnews.com/?p=1116

ذرائع: بزنس ریکارڈر، اردو پوائنٹ، ٹریبیون، پاکستان پوسٹ (24 اکتوبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *