بلوچستان ڈاکٹرز: اے آئی حاضری ایپ سے تنخواہ نامنظور
کوئٹہ — ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) بلوچستان نے پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں کی حاضری اور ماہانہ وظیفے کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی حاضری ایپ سے مشروط کرنے کا نظام مسترد کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ایپ تکنیکی طور پر ناقابل اعتماد ہے اور اس کی بنیاد پر ڈاکٹروں کا وظیفہ روکنا یا مشروط کرنا قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹروں کے اعتراضات کیا ہیں؟
وائی ڈی اے بلوچستان کے مطابق ایپ میں کئی سنگین تکنیکی خامیاں ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایپ کی لوکیشن ریکارڈنگ درست نہیں، اس میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات اور ہیکنگ کا امکان موجود ہے، چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) کا نظام ٹھیک کام نہیں کرتا، اور ڈیوٹی پر آنے اور جانے کے وقت چیک ان کے لیے انتہائی محدود وقت دیا جاتا ہے۔
ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ جو ڈاکٹر دن رات اسپتالوں میں مریضوں کی خدمت کرتے ہیں، ان کی تنخواہ یا وظیفہ کسی ایسی ایپ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جو خود تکنیکی طور پر ناقص ہو۔
پی جی ایم آئی اجلاس میں کیا ہوا؟
اس معاملے پر پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (پی جی ایم آئی) میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں وائی ڈی اے بلوچستان کے مرکزی عہدیداران اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پی جی ایم آئی کے ڈین اور ایپ بنانے والی نجی کمپنی کی تکنیکی ٹیم بھی موجود تھی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اس کے وفد نے ایپ کی خامیوں کے ثبوت پیش کیے، لیکن تکنیکی ٹیم ان خدشات کا واضح، تسلی بخش یا عملی جواب نہ دے سکی۔ وائی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد بھی ڈاکٹروں کے تحفظات برقرار ہیں اور وہ اس نظام کو قبول نہیں کرتے۔
وظیفہ کیوں اہم ہے؟
پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر اسپتالوں میں طویل ڈیوٹیاں دیتے ہیں اور ان کا ماہانہ وظیفہ ان کے گزر بسر کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ وائی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اگر وظیفہ کسی ناقابل اعتماد ایپ کی حاضری سے جڑ جائے تو کسی تکنیکی غلطی کی صورت میں ڈاکٹر کو مالی نقصان اٹھانا پڑے گا، حالانکہ وہ ڈیوٹی پر موجود ہو۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرینی ڈاکٹروں کے وظیفے کو ایپ سے مشروط کرنے کے بجائے ایک قابل اعتماد اور شفاف نظام اپنایا جائے جس میں تکنیکی خرابی کا خمیازہ ڈاکٹروں کو نہ بھگتنا پڑے۔
یہ معاملہ بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں صحت کی خدمات اور ڈاکٹروں کے اعتماد کے لیے اہم ہے، کیونکہ ٹرینی ڈاکٹر صوبے کے اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پولیو مہم 2 نومبر سے — 2 کروڑ 39 لاکھ بچے — https://niazitvnews.com/?p=1677
مزید پڑھیں: لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر — فضائی آلودگی 344 تک پہنچ گئی — https://niazitvnews.com/?p=1528
ماخذ: ڈیلی قدرت (ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے بیان کی بنیاد پر)، 24 اکتوبر 2026۔