آبنائے ہرمز: ایران نے امریکا کو پیشکش کی تردید کر دی
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے امریکا سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے نہ تو امریکا کو کوئی نئی پیشکش کی ہے اور نہ ہی پاکستانی ثالثوں کو اس سلسلے میں کوئی پیغام بھیجا ہے۔ یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے کیا کہا؟
ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی میڈیا کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ “جھوٹ اور من گھڑت” ہے۔ پریس ٹی وی کے مطابق ذرائع نے واضح کیا کہ ایران نے امریکی انتظامیہ کو آبنائے ہرمز کھولنے کی کوئی نئی تجویز نہیں دی اور نہ ہی پاکستانی ثالثوں کے ذریعے کوئی پیغام پہنچایا گیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کا تعلق ایران کی پاسداران انقلاب سے بتایا جاتا ہے اور اس کی رپورٹوں کو تہران کے مؤقف کی عکاسی سمجھا جاتا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ میں کیا دعویٰ کیا گیا تھا؟
سعودی خبر رساں ادارے العربیہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو یہ پیشکش پہنچائی ہے کہ اگر واشنگٹن بحری ناکہ بندی ختم کر دے تو تہران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالثوں کو بتایا تھا کہ وہ مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی تیار ہے۔ ایرانی میڈیا نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی پیشکش موجود ہی نہیں ہے۔
سات روزہ تجویز اب بھی میز پر ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 18 اکتوبر کو بغداد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سات روز کے اندر کھولنے کی ایران کی تجویز اب بھی میز پر موجود ہے۔ عراقچی کے مطابق امریکا نے اس تجویز پر اپنے تبصرے شیئر کیے ہیں جن کا تہران جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا کی جانب سے کوئی دیانت داری ہو، جو ان کے بقول نہیں ہے، تو آبنائے ہرمز کھولنے کا راستہ واضح ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے لیکن انہوں نے مزید فوجی کارروائی کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو مستقل طور پر جوہری ہتھیار بنانے سے روکے۔ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو امریکا “ایک اور چھوٹا ایپک فیوری” آپریشن کر سکتا ہے۔
پاکستان کا کردار اور پس منظر
پاکستان آبنائے ہرمز کے معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عبوری معاہدے کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا تھا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل گزرتا ہے، اس لیے اس سے متعلق ہر خبر عالمی منڈی پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ تازہ تردید کے بعد صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہو گیا ہے کہ آیا فریقین مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
متعلقہ خبریں: https://niazitvnews.com/?p=1778
https://niazitvnews.com/?p=1666
ماخذ: تسنیم نیوز ایجنسی، پریس ٹی وی، العربیہ، اے این آئی