روم: مظاہرین کولوزیم میں گھس گئے، فلسطینی جھنڈے لہرائے
اٹلی کے دارالحکومت روم میں 24 اکتوبر کو ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران مظاہرین قدیم تاریخی عمارت کولوزیم میں داخل ہو گئے اور فلسطینی جھنڈے لہرائے۔ یہ مظاہرے مہنگائی، بجٹ میں کٹوتیوں اور حکومت کی غزہ جنگ سے متعلق پالیسی کے خلاف کیے جا رہے تھے، جن میں نوجوانوں، طلبہ، ٹرک ڈرائیوروں اور کسانوں نے شرکت کی۔
کولوزیم میں کیا ہوا؟
روم میں غزہ سے یکجہتی کے لیے نکلنے والا مظاہرہ تاریخی مرکز سے گزرا تو مظاہرین کا ایک گروپ اپنا راستہ بدل کر کولوزیم کی طرف بڑھ گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مظاہرین نے کولوزیم کے دروازوں سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور سیکیورٹی عملے سے جھڑپ ہوئی، اس وقت سیاح بھی عمارت کے اندر موجود تھے۔
اٹلی کے وزیر ثقافت الیسانڈرو جیولی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے جلد ہی عمارت کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا اور وہاں کوئی مادی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں ثقافتی وزارت نے بھی تصدیق کی کہ کولوزیم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔
اٹلی بھر میں مظاہرے اور گرفتاریاں
روم کے علاوہ میلان، ٹورن اور بولوگنا سمیت کئی شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے۔ پولیس کے مطابق ملک بھر میں 9 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 371 افراد کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا، جن میں 110 نابالغ بھی شامل تھے۔ حراست میں لیے گئے افراد کو آٹھ شہروں کے تھانوں میں لے جایا گیا۔
میلان میں کئی ہزار افراد نے مارچ کیا اور شہر کے مرکز میں ٹریفک جام ہو گئی۔ مظاہرین نے مہنگائی، رہائش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف نعرے لگائے۔ بولوگنا میں شام کو مظاہرہ پرتشدد ہو گیا جب نقاب پوش نوجوانوں نے رکاوٹیں کھڑی کیں، کچرے کے ڈبوں کو آگ لگائی اور پولیس پر بوتلیں، پتھر اور آتش بازی کا سامان پھینکا، جس پر پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس استعمال کی۔
حکومت کا سخت ردعمل
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے اس ہفتے سخت سیکیورٹی اقدامات منظور کیے ہیں۔ مظاہروں سے قبل پولیس نے درجنوں چھاپے اور گرفتاریاں کیں اور روم میں 200 سے زائد نوجوانوں کی شناخت کر کے ان سے بالاکلاوا، اسپرے اور چھلاوے کا سامان ضبط کیا۔ پولیس نے “17 اکتوبر تحریک” کی قیادت کے شبے میں ایک 30 سالہ شخص کو بھی گرفتار کیا ہے۔
وزیر داخلہ ماتیو پیانٹیڈوسی نے کہا کہ پولیس نے “توازن اور پیشہ ورانہ مہارت” کے ساتھ پرتشدد عناصر کو الگ تھلگ اور قابو میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹلی میں ان لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بلا خوف و خطر کام کر سکتے ہیں۔
یہ مظاہرے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد ہوئے ہیں، جن میں میلان میں لگژری دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ طلبہ تنظیموں نے حکومت کے سیکیورٹی ردعمل پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ پرامن احتجاج ان کا حق ہے۔
مزید پڑھیں: فرانس مظاہرے: 4 لاکھ سے زیادہ افراد، 1000 گرفتار (https://niazitvnews.com/?p=1768) اور Albania protests escalate as 300 injured in Tirana (https://niazitvnews.com/?p=1764)
ماخذ: چینل نیوز ایشیا (رائٹرز)، اے پی اے، این ڈی ٹی وی — 25 اکتوبر 2026