پاکستان کا طالبان سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے کیخلاف کارروائی کا مطالبہ
پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کریں۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا موقف واضح ہے اور کابل کو ان گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
وزارت اطلاعات کا بیان کیا کہتا ہے
وزارت کے بیان کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اسلام آباد اپنی سیکیورٹی ناکامیوں کا ذمہ دار کابل کو ٹھہرا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکا کی رپورٹوں کے حوالے سے بھی پاکستان کے خدشات کی تائید ہوتی ہے۔
بیان کے مطابق ایک امریکی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار ہزار سے چھ ہزار کے درمیان ہے اور اس گروہ کی افغان سرزمین سے سرگرمیوں کا تعلق پاکستان میں حملوں میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ اسلام آباد نے سرحد پار دراندازی اور افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو مبینہ سہولت فراہم کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طالبان کا جوابی موقف
یہ بیان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ مجاہد نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے ملک میں امن قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا تھا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی ایک بڑا تنازعہ بنی ہوئی ہے، حالانکہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ پاکستان کے اندر حملوں کے ذمہ دار گروہوں کے خلاف واضح اور قابل تصدیق کارروائی چاہتا ہے۔
سیکیورٹی صورتحال کا پس منظر
پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے حالیہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشنز کے بعد دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس پس منظر میں اسلام آباد کا تازہ مطالبہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1847 اور https://niazitvnews.com/?p=1427
ماخذ: جی ٹی وی نیوز، 25 اکتوبر 2026