ٹرمپ: آج ایران پر حملہ نہیں ہوگا، قطر ثالثی جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 25 اکتوبر کو ایران پر فوری فوجی حملے کا امکان مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی لائیو کوریج کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اتوار کو ایران پر کوئی حملہ نہیں ہوگا، جب کہ قطر کے ثالث اس وقت تہران میں موجود ہیں اور سفارتی حل کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ بیان ایک روز قبل ان کے اس اشارے کے بالکل برعکس ہے جس میں انہوں نے اتوار کو ہی ممکنہ حملے کا عندیہ دیا تھا۔
ہفتے کو “شاید کل” کا اشارہ، اتوار کو نفی
ہفتے کو فلوریڈا میں قبل از وقت ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ ان کا جواب تھا: “کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ میں تمہیں یہ بتاؤں گا؟ شاید کل۔” انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ایک “خوبصورت بڑے معاہدے” کا امکان بھی موجود ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس پر قائم رہے گا۔
نومبر 3 کا وعدہ اور ڈرون واقعہ
ٹرمپ اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ “مثبت بات چیت” جاری ہے۔ دوسری جانب اتوار کو ہی ایران کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔ ایران کے مطابق یہ ڈرون ملک کے مربوط فضائی دفاعی نظام کی زد میں آیا۔ بندر عباس آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے، جو دنیا کی تیل و گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحری ناکہ بندی کا تنازع
امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے بڑا تنازع آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی پر ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ناکہ بندی کے خاتمے کے بدلے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے، تاہم ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اس کی تردید کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستانی ثالثوں کو کوئی نئی پیشکش نہیں کی۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائیوں سے ایران کی فضائی اور بحری طاقت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جب کہ ایران اسے مسترد کرتا ہے۔
ایران ہائی الرٹ، قطر کی ثالثی
ایران کی مسلح افواج کو اعلیٰ ترین سطح کی جنگی تیاری پر رکھا گیا ہے۔ ایرانی آرمی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے اپنی افواج کو خبردار کیا ہے کہ جنگی حالات میں ذرا سی غفلت کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اسی دوران قطر کے ثالث تہران پہنچے ہیں تاکہ کشیدگی کم کرنے کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ پاکستان اور قطر دونوں اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ٹرمپ کے جنگی رویے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس جنگ سے ایران کی اسٹریٹیجک پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، جب کہ امریکی جانوں اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان میں پیٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے، جب کہ گبد رمدان بارڈر سے تجارت بھی اسی کشیدگی کے سائے میں بحال ہوئی ہے۔ اس لیے ٹرمپ کا “آج حملہ نہیں” کا بیان خطے کے لیے وقتی ریلیف ضرور ہے، مگر نومبر 3 کی ڈیڈ لائن تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں: عراقچی: جنگ ہو یا نہ ہو، ایران کی پالیسی برقرار رہے گی — https://niazitvnews.com/?p=1911
مزید پڑھیں: ٹرمپ ایران حملہ: اتوار کی دھمکی یا 3 نومبر تک انتظار؟ — https://niazitvnews.com/?p=1901
ماخذ: الجزیرہ لائیو کوریج 25 اکتوبر 2026، انڈین ایکسپریس، اکنامک ٹائمز۔