طوفان ارناب: 28 اکتوبر کو آندھرا پردیش سے ٹکرائے گا

0

خلیج بنگال میں بننے والا طوفان ارناب 28 اکتوبر کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرائے گا۔ بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق یہ طوفان اس وقت انتہائی شدید سمندری طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہوگا اور اس کے ساتھ 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی، جن کے جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ آندھرا پردیش اور اوڈیشہ کی ساحلی پٹی کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

طوفان ارناب کہاں سے آیا اور کب بنے گا؟

یہ موسمی نظام 23 اکتوبر کو خلیج بنگال کے مشرقی وسطی اور جنوب مشرقی حصے میں کم دباؤ کے علاقے کے طور پر ابھرا تھا۔ 24 اکتوبر کو یہ ڈپریشن میں تبدیل ہوا اور 25 اکتوبر کو گہرا ڈپریشن بن گیا۔ آئی ایم ڈی کے مطابق 26 اکتوبر کی صبح یہ سمندری طوفان کی شکل اختیار کر لے گا اور اس کا نام ارناب رکھا جائے گا، جو بنگلہ دیش کی تجویز کردہ نام ہے اور اس کا مطلب سمندر ہے۔

25 اکتوبر کو ساڑھے گیارہ بجے دن کے وقت یہ نظام وشاکھاپٹنم سے تقریباً 870 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق، کاکی ناڈا سے 960 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق اور بپٹلہ سے ایک ہزار 130 کلومیٹر مشرق میں موجود تھا۔ اس کے بعد یہ نظام پہلے جنوب مغرب اور پھر مغرب شمال مغرب کی طرف بڑھے گا۔

لینڈ فال کب اور کہاں ہوگا؟

آئی ایم ڈی کی پیش گوئی کے مطابق 27 اکتوبر کی صبح یہ شدید سمندری طوفان بن جائے گا اور 28 اکتوبر کی صبح انتہائی شدید سمندری طوفان کی شکل اختیار کر لے گا۔ اسی دن دوپہر سے پہلے یہ آندھرا پردیش کے ساحل پر بپٹلہ اور وشاکھاپٹنم کے درمیان ٹکرائے گا۔ لینڈ فال کے وقت ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جانے کا امکان ہے۔

26 اکتوبر کی صبح سے ہی ساحلی علاقوں میں 70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہوائیں چلنے اور جھکڑ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، اور جیسے جیسے نظام قریب آئے گا، شدت بڑھتی جائے گی۔ سمندر پہلے ہی مشرقی وسطی اور جنوب مشرقی خلیج بنگال میں خراب ہے اور آنے والے دنوں میں انتہائی خراب ہونے کا امکان ہے۔

اوڈیشہ اور پڑوسی ریاستوں میں کیا اقدامات ہوئے؟

اوڈیشہ حکومت نے طوفان کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے آفات سے نمٹنے والے تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور ریسکیو ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ریڈ وارننگ والے اضلاع میں رائے گڑھ، کوراپٹ، ملکان گری، گجاپتی اور گنجام شامل ہیں، جہاں 28 اور 29 اکتوبر کو اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں انتہائی شدید بارش کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آندھرا پردیش کے لیے آئی ایم ڈی نے سائیکلون الرٹ (اورنج میسج) جاری کیا ہے، جبکہ 27 اور 28 اکتوبر کو ساحلی آندھرا پردیش میں انتہائی شدید بارش اور 27 اور 29 اکتوبر کو اوڈیشہ میں بھاری سے بہت بھاری بارش کی وارننگ دی گئی ہے۔ تمل ناڈو میں بھی نو سمندری بندرگاہوں پر طوفانی سگنل بلند کر دیے گئے ہیں، جن میں چنئی، ناگاپٹنم، کڈالور، کرائیکل، پامبن اور تھوتھوکوڈی شامل ہیں۔ کیرالہ میں بھی بھاری بارش جاری ہے اور 24 اکتوبر کو دس اضلاع میں اورنج الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

ماہی گیروں اور عوام کے لیے ہدایات

آئی ایم ڈی نے ماہی گیروں کو واضح طور پر سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی ہے اور جو ماہی گیر پہلے سے سمندر میں ہیں، انہیں واپس آنے کو کہا گیا ہے۔ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسم کی تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نقصان کم سے کم کرنے اور بنیادی سہولتوں کی فوری بحالی کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

اس سے قبل برطانیہ میں طوفان بویلو نے تباہی مچائی تھی اور تبت میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری رہی تھیں۔

ماخذ: بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے بلیٹن، ریپبلک ورلڈ، اکنامک ٹائمز، ٹائمز آف انڈیا اور اے بی پی لائیو کی 25 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *