لولا نے برازیل صدارتی رن آف جیت لیا، چوتھی مدت

0

برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی رن آف الیکشن جیت لیا ہے اور وہ چوتھی بار ملک کے صدر بنیں گے۔ برازیل کے الیکشن حکام کے مطابق 98.76 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک لولا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف سینیٹر فلاویو بولسونارو 48.25 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز اور الجزیرہ نے بھی لولا کی جیت کی تصدیق کی ہے۔

نتیجہ کیسے بدلا

ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی مرحلے میں فلاویو بولسونارو آگے نظر آئے تھے اور ایک موقع پر انہوں نے 50.02 فیصد ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کر لی تھی۔ تاہم جیسے جیسے شمال مشرقی ریاستوں کے ووٹ گنے گئے، جو لولا کا روایتی گڑھ سمجھی جاتی ہیں، لولا نے برتری حاصل کر لی اور آخر تک اسے برقرار رکھا۔ گنتی کے آدھے مرحلے پر لولا 50.14 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے تھے اور بعد ازاں یہ فرق بڑھ کر 3.5 فیصد پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

پہلا مرحلہ اور پولنگ میں توسیع

چار اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں فلاویو بولسونارو نے 47.03 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ لولا 45.16 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ چونکہ کسی امیدوار کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی، اس لیے 25 اکتوبر کو رن آف کا انعقاد ہوا۔ پولنگ کے دوران سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زانین نے لولا کی مہم کی درخواست پر باہیا کی تین شہروں میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث پولنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھا دیا، جس کے بعد الیکشن حکام نے ووٹوں کی گنتی عارضی طور پر روک دی۔ اس فیصلے پر بولسونارو کے حامیوں نے تنقید کی اور الجزیرہ کے مطابق قانونی چیلنجوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دونوں امیدواروں کی مہم

لولا ورکرز پارٹی کے امیدوار ہیں اور انہوں نے سماجی پروگراموں، گھریلو آمدنی میں اضافے اور قومی خودمختاری کے ایجنڈے پر مہم چلائی۔ وہ 2002 اور 2006 میں بھی صدر منتخب ہو چکے ہیں اور 2022 میں واپس اقتدار میں آئے تھے۔ فلاویو بولسونارو لبرل پارٹی کے سینیٹر اور سابق صدر جائیر بولسونارو کے بڑے بیٹے ہیں۔ ان کی مہم کا مرکز منظم جرائم کے خلاف سخت کارروائی اور قدامت پسند ایجنڈا تھا۔ مبصرین کے مطابق یہ الیکشن لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی لہر کے برعکس نتیجہ ہے، کیونکہ فلاویو کی جیت امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ دائیں بازو کی تحریک کو مزید تقویت دیتی۔

آگے کیا ہوگا

نئے صدر 5 جنوری 2027 کو عہدہ سنبھالیں گے۔ مارکیٹ نے لولا کی جیت پر منفی ردعمل ظاہر کیا ہے؛ برازیل کے حصص کی ای ٹی ایف میں اتوار کی رات نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ سرکاری تیل کمپنی پیٹروبراس کے حصص بھی گر گئے۔ لولا کے حامیوں نے ساؤ پاؤلو میں جیت کا جشن منایا جبکہ بولسونارو کیمپ کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار ہے۔

برازیل کے اس فیصلے پر دنیا بھر کی نظریں تھیں کیونکہ یہ ملک لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کے فیصلے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: برازیل الیکشن: رن آف ووٹنگ کے بعد لولا اور فلاویو برابر اور برازیل الیکشن: لولا بمقابلہ بولسونارو، آج فیصلہ کن راؤنڈ۔

ماخذ: روئٹرز، الجزیرہ، ٹائمز آف اسرائیل — 26 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *