شہباز شریف کے ٹویٹ پر سوشل میڈیا پر طوفان
وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی ایک وکٹ سے سنسنی خیز جیت پر قومی ٹیم کو مبارکباد دی تو ان کا ٹویٹ سوشل میڈیا پر شدید بحث کا موضوع بن گیا۔ ایک طبقے نے وزیراعظم کے پیغام کو سراہا جبکہ دوسرے صارفین نے اسے فائنل سے پہلے حد سے زیادہ جشن قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔
وزیراعظم نے ٹویٹ میں کیا لکھا
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ لاہور میں انگلینڈ کے خلاف شاندار جیت پر ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر رن، ہر وکٹ اور ہر کیچ میں وہ جرات، نظم و ضبط اور لڑنے کا جذبہ نظر آیا جو پاکستان کی پہچان ہے۔
وزیراعظم نے شاداب خان اور حارث رؤف کی آخری وکٹ کی شراکت کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا اور شاداب کی سنچری کو شاندار قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ لاہور کے شائقین کی گونج پوری قوم کی آواز تھی اور ٹیم نے لاکھوں دلوں کو فخر اور خوشی سے بھر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی اور ان کی پوری ٹیم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی انتھک محنت سے پاکستان کرکٹ مضبوط ہو رہی ہے اور ہوم گراؤنڈ عالمی معیار کی کرکٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔
میچ کیسے پاکستان کے نام ہوا
پاکستان نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے سہ ملکی سیریز کے میچ میں انگلینڈ کا 242 رنز کا ہدف 9 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ ایک موقع پر پاکستان کی 9 وکٹیں صرف 154 رنز پر گر چکی تھیں اور شکست یقینی نظر آ رہی تھی، مگر شاداب خان نے ناقابل شکست 113 رنز کی اننگز کھیل کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ حارث رؤف نے 19 گیندوں پر 7 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں نے آخری وکٹ پر 89 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی۔ پاکستان نے 47.1 اوورز میں ہدف حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
انگلینڈ کی جانب سے جیمی اوورٹن نے 3، لیام ڈاؤسن نے 2 اور گس اٹکنسن نے 2 وکٹیں حاصل کیں، مگر وہ آخری وکٹ کی شراکت نہ توڑ سکے۔ اس سے قبل شاہین آفریدی کی قیادت میں پاکستانی بولرز نے انگلینڈ کو 241 رنز پر آؤٹ کیا تھا، جس میں شاہین نے خود 4 وکٹیں حاصل کیں۔
سوشل میڈیا پر تنقید کیوں ہوئی
وزیراعظم کے ٹویٹ کے بعد ایکس پر کئی صارفین نے طنز اور تنقید شروع کر دی۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ یہ صرف لیگ مرحلے کا میچ تھا، فائنل ابھی باقی ہے، اس لیے اسے ورلڈ کپ جیسی فتح کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔ کچھ صارفین نے مہنگائی اور معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام کو روزمرہ مسائل کا سامنا ہے اور وزیراعظم کا جشن ان حقائق سے بے خبر لگتا ہے۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے وزیراعظم کے پیغام کا دفاع بھی کیا اور کہا کہ قومی ٹیم کی تاریخی جیت پر وزیراعظم کا مبارکباد دینا معمول کی بات ہے۔ بحث میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ پاکستان کو فائنل سے قبل سری لنکا کے خلاف اپنا آخری لیگ میچ 27 اکتوبر کو کھیلنا ہے، جبکہ فائنل 30 اکتوبر کو ہوگا۔ واضح رہے کہ تنقید کرنے والے تبصرے انفرادی صارفین کی رائے ہیں، انہیں کسی ادارے یا عوام کی مجموعی رائے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
آگے کیا ہوگا
پاکستان کی ٹیم اب 27 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف اپنا آخری لیگ میچ کھیلے گی، جبکہ سہ ملکی سیریز کا فائنل 30 اکتوبر کو شیڈول ہے۔ شائقین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا پاکستان فائنل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ میدان میں اترے گا جس نے لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان ٹرائی سیریز فائنل میں، انگلینڈ کو 1 وکٹ سے شکست اور شاداب خان ڈی آر ایس تنازع، حارث رؤف جیکس سے الجھے۔
ذرائع: مینافن/ایشیا نیٹ نیوز اور فری پریس جرنل کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹیں؛ وزیراعظم کے ایکس پیغام کا متن رپورٹوں میں شائع شدہ اقتباسات سے لیا گیا ہے۔