مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی دفاع کی منظوری دے دی
مصر کی پارلیمنٹ نے پیر 26 اکتوبر 2026 کو ملک کی فوج کو سعودی عرب کے دفاع میں مدد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ارکان پارلیمنٹ اور مقامی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ یہ منظوری اس صورت میں استعمال ہوگی جب ریاض خود مدد کی درخواست کرے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
منظوری میں کیا شامل ہے
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے درخواست کی تھی کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دی جائے۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اب صدر کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو مصر کی فوج سعودی سرزمین کے دفاع میں مدد کر سکے۔ یہ منظوری خود بخود فوج کی روانگی کا حکم نہیں ہے، بلکہ ایک مشروط اختیار ہے۔
مصری حکام نے واضح کیا ہے کہ قاہرہ کی مدد سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گی، یمن پر حملہ اس کا حصہ نہیں ہوگا۔ وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس چیف حسن رشاد نے گزشتہ بدھ کو ریاض جا کر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صدر السیسی کا خط پہنچایا تھا، جس میں یہی موقف دہرایا گیا تھا۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے
حوثیوں کی پیش قدمی سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ باب المندب آبنائے کو بھی خطرہ ہے، جو مصر کی نہر سوئز کا دروازہ سمجھی جاتی ہے۔ سعودی عرب مصر کا بڑا سیاسی اور مالی شراکت دار ہے اور اس نے قاہرہ کو اربوں ڈالر کی امداد، مرکزی بینک میں رقوم اور توانائی کی فراہمی کی صورت میں مدد دی ہے۔
مصر نے اس سے پہلے ایران اور ایران نواز حملوں کی مذمت تو کی ہے، لیکن کھلے عام کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی وہ اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ باہمی دفاعی معاہدے میں شامل ہوا ہے۔ وزیر خارجہ عبدالعاطی نے اس ماہ کہا تھا کہ اس معاہدے میں مصر کی رکنیت “سنجیدگی سے زیر غور” ہے۔
مصر کی فوجی تاریخ کا پس منظر
مصر عرب دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور اس کی فوج خطے کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔ یمن کی جنگ کے پہلے مرحلے میں مصر نے مارچ 2015 میں سعودی قیادت والے اتحاد میں بحری شراکت دار کے طور پر حصہ لیا تھا، بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیجے تھے اور فضائی مدد کا وعدہ کیا تھا، جبکہ تقریباً 800 زمینی فوجی بھی تعینات کیے تھے، لیکن اس کا جنگی کردار محدود رہا تھا۔ مصر نے 1960 کی دہائی میں یمن میں مہنگی فوجی مداخلت کی تھی اور 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے کوئی بڑی بیرونی زمینی تعیناتی نہیں کی ہے۔
حوثی حملوں میں شدت
حالیہ ہفتوں میں سعودی قیادت والے اتحاد اور دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی ملیشیا کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے، جو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا ایک غیر مستحکم محاذ بن گئی ہے۔ حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ آج ہی ریاض پر حوثی میزائل حملہ ناکام ہونے کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جب سعودی فضائی دفاع نے ریاض کی طرف فائر کیا گیا بیلسٹک میزائل مار گرایا تھا۔ اسی کشیدگی کے پس منظر میں آج تہران مذاکرات بھی ہوئے ہیں، جن میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے حکام نے ایرانی حکام سے بات چیت کی ہے۔
مصر کی پارلیمنٹ کی منظوری سے قاہرہ اب اس علاقائی تنازع میں براہ راست شامل ہو سکتا ہے، اگر ریاض مدد مانگے۔ تاہم مصری حکام نے بار بار کہا ہے کہ وہ یمن کے تنازع کے سفارتی حل کے ہر موقع کو تلاش کرنے کے حامی ہیں۔
ذرائع: رائٹرز اور گلف نیوز کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔