بلوچستان میں یوم سیاہ، 10 بجے خاموشی اختیار
بلوچستان حکومت نے 27 اکتوبر 2026 کو صوبے بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا اور ان کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کی جائے گی۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق منگل کے روز صبح 10 بجے صوبے بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
یوم سیاہ کیوں منایا جاتا ہے؟
27 اکتوبر کا دن کشمیری عوام کے لیے ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اسی تاریخ کو 1947 میں بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی تھیں۔ پاکستان ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتا ہے تاکہ کشمیری عوام کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے اور دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرائی جائے۔ بلوچستان حکومت نے بھی اسی سلسلے میں صوبے بھر میں یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن میں کیا کہا گیا؟
سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 27 اکتوبر کو صوبے بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی، جو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کی علامتی یاد دہانی ہوگی۔ اس خاموشی کا مقصد کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو تسلیم کرنا اور ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔
یکجہتی کا پیغام
بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کی حمایت کرنا ہے۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ یوم سیاہ کے ذریعے صوبائی حکومت عالمی برادری کی توجہ اس دیرینہ تنازع کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہے۔
ملک بھر میں یوم سیاہ
27 اکتوبر کو ملک کے دیگر حصوں میں بھی یوم سیاہ منایا جاتا ہے اور کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے تقریبات اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں بھی سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر یکجہتی کی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ صبح 10 بجے کی ایک منٹ کی خاموشی میں صوبے بھر کے سرکاری ملازمین اور عوام شرکت کریں گے۔
کشمیر کا مسئلہ اب بھی زیر التوا
مسئلہ کشمیر گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، لیکن اس کا حل ابھی تک نہیں نکل سکا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ تنازع جنوبی ایشیا میں امن کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان حکومت نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1836 اور https://niazitvnews.com/?p=1802
ماخذ: اردو پوائنٹ / اے پی پی کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ