ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے: ایک پاکستانی شہری جاں بحق، متعدد زخمی — پاکستان سمیت چار ممالک کی شدید مذمت
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق اتوار کو ہونے والے تازہ حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ حکام نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ہفتے کا مہلک حملہ
اس سے ایک روز قبل ہفتے کو ایئرپورٹ پر ہونے والا حملہ حالیہ برسوں کا مہلک ترین حملہ تھا۔ سعودی حکام کے مطابق اس حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے تھے، بعد ازاں ایک زخمی بھارتی شہری کے دم توڑنے سے ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مطابق ہفتے کے حملے میں زخمی ہونے والوں میں 6 پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔
پانچ دنوں میں چوتھا حملہ
سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق اتوار کو ایک پروجیکٹائل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 سے ٹکرایا جس سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ایئر ڈیفنس نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو بھی مار گرایا۔ یہ پانچ دنوں میں ریاض ایئرپورٹ پر چوتھا حملہ تھا۔ اتوار کی شام دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی حملے کی اطلاع ملی۔ ان حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی گروپ سے منسوب کی جا رہی ہے۔
پاکستان سمیت چار ممالک کا مشترکہ بیان
پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ (R4 گروپ) نے مشترکہ بیان میں ان حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور مملکت کے تمام جائز دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایئرپورٹ پر حملے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے پختہ عزم رکھتا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کی۔
پاکستانی سفارتخانے کو ہدایات
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی حکام سے رابطے میں ہے اور ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمی پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ایئرپورٹ کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور مسافروں کو اپنی پرواز کی صورتحال چیک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
(ماخذ: Arab News، The Express Tribune، Geo News)