فرانس کا روس پر نئی یورپی پابندیوں کا مطالبہ

0

فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ وہ افریقہ میں مبینہ روسی مداخلت کے ذمہ داروں پر یورپی یونین کی پابندیاں عائد کرانے کا مطالبہ کریں گے۔ بارو نے منگل 27 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ روس خودمختار ممالک میں رائے عامہ کو جوڑ توڑ کر فرانس کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

الزام کیا ہے؟

فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق فرانس کی ڈیجیٹل مداخلت کا سراغ لگانے والی ایجنسی ویجینم نے منگل کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں اس مبینہ مہم کو دستاویزی شکل دی ہے۔ بارو کا کہنا ہے کہ یہ مہم خاص طور پر کیمرون اور کانگو کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے لکھا: “روس ذہنوں کو نوآبادیاتی بنانے کی بے صبری سے کوشش کر رہا ہے، لیکن وہ ناکام رہے گا کیونکہ ہم بے وقوف نہیں بن رہے۔” تاہم بارو نے یہ واضح نہیں کیا کہ پابندیاں کن افراد یا اداروں پر عائد کی جائیں گی۔ یہ الزامات فرانس کی طرف سے لگائے گئے ہیں، اور اس رپورٹ میں روس کا موقف شامل نہیں ہے۔

ویجینم کیا ہے؟

ویجینم فرانس کی وہ سرکاری ایجنسی ہے جو 2021 میں غیر ملکی ڈیجیٹل مداخلت کا سراغ لگانے اور اس سے بچاؤ کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس سے پہلے 2025 میں بھی ویجینم، یورپی یونین کی سفارتی سروس اور برطانوی دفتر خارجہ نے مشترکہ طور پر “افریقن انیشی ایٹو” نامی روسی خبر رساں ادارے کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تھا، جس کے بارے میں ان اداروں کا کہنا تھا کہ وہ براعظم میں اثر و رسوخ کی مہموں میں ملوث ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہموں کا مقصد یورپی یونین اور فرانس کے ساتھ افریقی ممالک کے تعلقات کو کمزور کرنا ہے۔

یورپی پابندیوں کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

یورپی یونین میں پابندیاں لگانے کے لیے رکن ممالک کی متفقہ یا اکثریتی حمایت درکار ہوتی ہے، اور اس عمل میں عام طور پر ہفتے لگ جاتے ہیں۔ اگر بارو کی تجویز منظور ہوئی تو متعلقہ افراد کے یورپی اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور ان کے یورپ میں داخلے پر پابندی لگ سکتی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ فرانس کن مخصوص ناموں کی فہرست پیش کرے گا اور دیگر یورپی ممالک اس تجویز کی کتنی حمایت کریں گے۔ یورپی یونین پہلے ہی یوکرین جنگ کے آغاز سے روس پر ہزاروں پابندیاں عائد کر چکی ہے، جن میں توانائی، مالیات اور دفاعی شعبے شامل ہیں۔

افریقہ میں فرانس اور روس کی کشمکش

افریقہ میں فرانس اور روس کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کئی برس سے جاری ہے۔ فرانس کے کئی سابق نوآبادیاتی ممالک میں فوجی حکومتیں آنے کے بعد پیرس کا اثر کم ہوا ہے، جبکہ روس نے ان ممالک کے ساتھ سیکیورٹی اور معاشی تعاون بڑھایا ہے۔ فرانسیسی حکام کا دعویٰ ہے کہ ماسکو سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے فرانس مخالف جذبات کو ہوا دیتا ہے، جبکہ روس ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ اس پس منظر میں کیمرون اور کانگو جیسے ممالک میں مداخلت کا تازہ الزام یورپی یونین کے اندر روس کے خلاف سخت موقف کی ایک نئی کڑی ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

آئندہ دنوں میں سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ فرانس یورپی یونین کے سامنے کن ناموں کی فہرست رکھتا ہے اور آیا جرمنی سمیت دیگر بڑے یورپی ممالک اس کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر پابندیاں منظور ہوئیں تو یہ افریقہ میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف یورپی یونین کے سخت ہوتے ہوئے موقف کی علامت ہوگی، اور اس سے افریقہ میں بڑی طاقتوں کی کشمکش میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اولیشکی میں جنگ بندی نافذ، امداد کا راستہ کھلا اور شام نے نصیب کراسنگ بند کر دی۔

ذرائع: اے نیوز، ڈیوڈسکرس (سنڈیکیٹڈ فیڈ)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *