اسلام آباد مارچ نومبر میں ہوگا، حکومت کو 7 دن
جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ نومبر کے وسط میں ہر صورت ہوگا اور اسے مزید ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے 7 سے 10 دن کا وقت مانگا ہے، اور جماعت اسلامی نے یہ مہلت دے دی ہے، لیکن مارچ کی تیاریاں جاری رہیں گی۔
وزیراعظم سے ملاقات میں کیا طے ہوا؟
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ریلیف کے دائرہ کار کو بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، تاہم اس کے طریقہ کار پر اختلاف باقی ہے۔ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ لیوی کو فوری طور پر مکمل ختم کیا جائے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اسے مرحلہ وار ختم کیا جا سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے ریلیف پیکیج کو وسعت دینے اور پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز دی ہے، لیکن جماعت اسلامی اسے ناکافی سمجھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مارچ سے پہلے لیوی کے خاتمے کا باقاعدہ نظام اور ریلیف پیکیج کا اعلان کرنا ہوگا، ورنہ جماعت اسلامی سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔
حکومت کو 7 سے 10 دن کی مہلت
جماعت اسلامی کے امیر نے واضح کیا کہ حکومت کی درخواست پر 7 سے 10 دن کا وقت دیا گیا ہے، جس کے دوران حکومتی کمیٹیاں ریلیف کے اقدامات پر کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران جماعت اسلامی بھی ملک بھر میں مارچ کی تیاریاں اور عوامی رابطہ مہم جاری رکھے گی، اور مذاکرات بھی ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔ ان کے مطابق اگر مقررہ مدت میں کوئی ٹھوس اعلان نہ ہوا تو مارچ کی تیاریاں مزید تیز کر دی جائیں گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ پیٹرولیم لیوی سے حکومت ہر ماہ تقریباً 150 ارب روپے وصول کر رہی ہے، جبکہ عام آدمی کو دو وقت کی روٹی اور بچوں کی معیاری تعلیم بھی مشکل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیوی کا سارا بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے، اس لیے اسے ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔
لیوی میں 20 سے 30 روپے کمی کی خبر مسترد
پریس کانفرنس کے دوران جب حافظ نعیم الرحمان سے حکومت کی جانب سے لیوی میں 20 سے 30 روپے کمی کی خبروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی محض معمولی کمی قبول نہیں کرے گی۔ ان کے الفاظ میں، جماعت اسلامی کو “مونگ پھلی” نہیں چاہیے، بلکہ لیوی کا مکمل خاتمہ چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے ایک نئی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس میں نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید فراست شاہ اور جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا شامل ہیں۔ یہ کمیٹی حکومتی کمیٹیوں سے رابطے میں رہے گی۔
ملاقات میں کون کون شریک ہوا؟
وزیراعظم سے ملاقات میں حکومتی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، سینیٹر رانا ثناءاللہ اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی شامل تھے۔ جماعت اسلامی کے وفد میں لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ اور نصراللہ رندھاوا شامل تھے۔
یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا، جسے وزیراعظم کی درخواست پر عارضی طور پر موخر کیا گیا تھا۔ آج کی ملاقات سے پہلے بھی جماعت اسلامی نے خبردار کیا تھا کہ اگر لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد مارچ کیا جائے گا۔
مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف آج حافظ نعیم سے ملیں گے اور پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد مارچ۔
ماخذ: ڈان، دی نیوز اور بزنس ریکارڈر کی 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔