مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی دفاع کی منظوری دے دی
مصر کی پارلیمنٹ نے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت کے بعد سامنے آیا ہے، اور اسے خطے میں جاری تنازع کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے منظوری دی
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مصر کی پارلیمنٹ نے پیر 26 اکتوبر کو خفیہ اجلاس میں دو تہائی اکثریت سے صدر کو “ضروری اقدامات” کرنے کا اختیار دیا۔ پارلیمنٹ کے بیان کے مطابق یہ منظوری سعودی عرب کی حمایت کے لیے دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر تین خفیہ اجلاس ہوئے اور ووٹ دو بار ملتوی بھی ہوا۔
صدر السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر ریاض درخواست کرے تو سعودی عرب کے دفاع کی اجازت دی جائے۔ تاہم رائٹرز کے مطابق ریاض کی جانب سے تاحال فوجی دستوں کی کوئی باضابطہ درخواست سامنے نہیں آئی ہے۔
مدد صرف دفاعی ہوگی، یمن پر حملہ نہیں
مصری حکام نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ مدد صرف دفاعی نوعیت کی ہوگی۔ صدر السیسی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو لکھے گئے خط میں کہا کہ مصر کی مدد سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گی اور اس میں یمن پر حملہ شامل نہیں ہوگا۔
پارلیمنٹ کی قانون ساز کمیٹی کے نائب سربراہ طاہر الخولی نے رائٹرز کو بتایا کہ مصر فوجیں صرف سعودی عرب کی درخواست پر اور اس کے ساتھ ہم آہنگی میں بھیجے گا۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے، جس کے پاس 11 نشستیں ہیں، مشن کے دائرہ کار اور مدت کے بارے میں واضح معلومات نہ ہونے پر ووٹ میں حصہ نہیں لیا۔
حوثی حملوں میں شدت اور سویز نہر کا خدشہ
حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق اکتوبر کے آغاز سے سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں میں 19 افراد ہلاک اور 364 زخمی ہو چکے ہیں۔
حوثیوں نے سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ مصر کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی باب المندب آبنائے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، جو مصر کی سویز نہر کا گیٹ وے ہے۔
مصر کا ماضی کا کردار اور مکہ معاہدہ
مصر عرب دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور اس کے پاس خطے کی بڑی فوجوں میں سے ایک ہے۔ مصر 2015 میں یمن جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سعودی قیادت والے اتحاد میں بحری شراکت دار کے طور پر شامل ہوا تھا، جب اس نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیجے تھے اور تقریباً 800 زمینی فوجی بھی تعینات کیے تھے، تاہم اس کا جنگی کردار محدود رہا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مصر نے تاحال سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان اگست میں دستخط شدہ مکہ باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اس ماہ کہا تھا کہ اس معاہدے میں رکنیت “سنجیدہ غور” میں ہے۔
مزید پڑھیں: حوثیوں کا راس تنورہ ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ
مزید پڑھیں: سوڈان میں ڈرون حملوں سے بجلی کا نظام متاثر
ماخذ: رائٹرز، چینل نیوز ایشیا، اے ایف پی — خبر 27 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی۔