پشاور کنٹینرز کا شہر بن گیا: پی ٹی آئی احتجاج سے قبل سکیورٹی سخت، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور کا نقشہ بدل گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی دوپہر 12 بجے ہشتنگری میں احتجاج کی کال سے قبل شہر بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، اہم مقامات پر کنٹینرز کھڑے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
کون سی سڑکیں بند ہیں؟
رپورٹس کے مطابق پشاور کینٹ میں داخلے اور اخراج کے راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور ریڈ زون کی طرف جانے والے راستے بند ہیں، اور جی ٹی روڈ فردوس چوک کے مقام پر بند ہے جہاں سے صرف پیدل چلنے والوں کو گزرنے دیا جا رہا ہے۔ پشاور بی آر ٹی سروس بھی بند ہے، جبکہ سول سیکرٹریٹ میں معمول کی گہماگہمی نظر نہیں آ رہی۔ ایئرپورٹ کی طرف جانے والا راستہ کھلا ہے لیکن سخت چیکنگ کے بعد گزرنے دیا جا رہا ہے۔
موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال
شہریوں کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ روز سے معطل موبائل فون اور وائی فائی سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔ وفاقی حکومت کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت پنجاب سے فوجی دستے بلائے گئے ہیں جو ایمرجنسی والے 12 اضلاع میں تعینات ہوں گے؛ پشاور شہر کے اندر فوج تعینات نہیں ہے اور سکیورٹی پولیس سنبھال رہی ہے۔
حفاظتی حراست کا حکومتی اعلان
وفاقی وزرا کے اعلان کے مطابق صوبائی حکومت کے عہدے معطل ہیں اور پی ٹی آئی کی کئی شخصیات کو حفاظتی حراست میں لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر بھی حراست میں ہیں، جبکہ حکومت آفریدی کو “حفاظتی تحویل” میں قرار دیتی ہے۔ آج کے احتجاج میں شرکت کی صورتحال دوپہر کے بعد واضح ہوگی — ہماری نظر تازہ ترین صورتحال پر رہے گی۔
(ماخذ: ہم نیوز انگلش، ڈان، بلوم پاکستان)