سعودی ریفائنری پر حملے کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

0

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدھ 28 اکتوبر کو بڑھ گئیں، جب یمن کے ایران نواز حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ اس خبر کے بعد سپلائی میں خلل کے خدشات پھر سے بڑھ گئے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری تنازع پہلے ہی عالمی توانائی منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیے ہوئے ہے۔

قیمتیں کتنی بڑھیں

رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچر 1.48 ڈالر یعنی 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 115.36 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 1.22 ڈالر یعنی 1.22 فیصد اضافے کے ساتھ 101.12 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ یہ اضافہ منگل کو تقریباً 2 ڈالر کی کمی کے بعد آیا تھا، جب مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کی خبروں سے سپلائی خدشات کچھ کم ہوئے تھے۔

حملے کا دعویٰ اور سعودی موقف

حوثیوں کے مطابق انہوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی ریفائنری کو نشانہ بنایا، جو روزانہ 550,000 بیرل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم سعودی حکام نے اس حملے کی فوری تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ حملہ حوثیوں کی سعودی تنصیبات کے خلاف کارروائیوں میں شدت کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ہو رہا ہے۔

پاکستان پر ممکنہ اثر

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر نظر ثانی کے نظام کے تحت طے ہوتی ہیں، جس میں عالمی قیمتوں کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ عالمی منڈی میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں پاکستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان میں 28 اکتوبر کے لیے پٹرول 376.06 روپے اور ڈیزل 398.07 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔

اوپیک پلس کا کردار

ذرائع کے مطابق اوپیک پلس ممالک اتوار کو دسمبر کے لیے اپنی پیداواری اہداف برقرار رکھنے کا امکان رکھتے ہیں، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہے۔ تاہم روس کی بالٹک اور بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے تیل کی برآمدات اگلے ماہ کم ہو سکتی ہیں، کیونکہ امریکی معاہدے کے بعد مقامی ریفائنریز ڈیزل کی پیداوار بڑھا رہی ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: پٹرول 3.19 روپے سستا، ڈیزل 2.25 روپے مہنگا (https://niazitvnews.com/?p=2275) اور بجلی: 200 یونٹ کی سزا ختم کرنے کا اعلان (https://niazitvnews.com/?p=2281)۔

ماخذ: رائٹرز، 28 اکتوبر 2026۔ نوٹ: ریفائنری پر حملہ حوثیوں کا دعویٰ ہے، سعودی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *