پاکستان کا ایران بحران پر انتباہ، سلامتی کونسل میں سفارتکاری پر زور
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ ایران کی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور سلامتی کونسل میں اختلافات نے سفارتی حل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کا موقف
عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے ایران اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو اشتعال انگیز بیانات، اقدامات اور ایسی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے جو فوجی تصادم کا خطرہ بڑھا دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے اس موقف پر قائم ہے کہ عدم تعمیل کے تکنیکی معاملات کو سیاسی دباؤ کے بغیر، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) جیسے مجاز تکنیکی اداروں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
آئی اے ای اے کے کردار پر زور
پاکستانی مندوب نے کہا کہ آئی اے ای اے کو اپنا کام بغیر کسی رکاوٹ اور اپنے تکنیکی مینڈیٹ کے اندر انجام دینے دیا جائے۔ ان کے مطابق، جوہری معاملے کے تکنیکی سوالات کو سیاسی تنازعے میں تبدیل کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اسے مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں سفارتکاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مثال
عثمان جدون نے جون میں اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ سفارتی راستے سے پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے، اور اس عمل میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین سمیت دیگر شراکت داروں کی حمایت حاصل ہے۔
خطے میں کشیدگی کا پس منظر
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاملے پر کشیدگی گزشتہ ہفتوں میں بڑھی ہے، اور مشرق وسطیٰ میں حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کی سلامتی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی تجویز کی حمایت کر چکا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پر بھی اسلام آباد کی تشویش سامنے آ چکی ہے۔ پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ سفارتکاری ایک بار پھر پرامن حل کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
ماخذ: ڈان — 28 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق (پاکستان کے مندوب کے بیان کی نسبت سے)۔