خیبر پختونخوا میں 278 پی ٹی آئی کارکن زیر حراست — آفریدی نامعلوم مقام پر منتقل، اے ایف پی
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کو ایمرجنسی کے اعلان کے بعد سے اب تک صوبے بھر میں پی ٹی آئی کے 278 ارکان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
آفریدی کہاں ہیں؟ اے ایف پی کی رپورٹ
اے ایف پی کے مطابق ایک انتظامی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہیل آفریدی کو پہلے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر “حفاظتی تحویل” میں رکھا گیا تھا، بعد میں انہیں کسی اور مقام پر منتقل کر دیا گیا — اہلکار نے نئے مقام کی تفصیل نہیں بتائی۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ حکومت اسے حفاظتی تحویل قرار دیتی ہے؛ کسی سرکاری اعلامیے میں نام لے کر تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
ہشتنگری کی صورتحال
پیر کو پشاور میں ہشتنگری چوک سے سورے پل تک سڑک کنٹینرز اور خاردار تاروں سے بند رہی اور ہشتنگری چوک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ پی ٹی آئی نے ریڈ زون کی طرف مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کہیں کہیں کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے مناظر بھی دیکھے گئے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ بی آر ٹی سروس دوسرے روز بھی بند رہی جبکہ کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔
آگے کیا؟
کل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایمرجنسی کی منظوری کا مرحلہ ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے عدالتوں سے رجوع اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ صوابی میں 13 اور 14 اکتوبر کو قافلوں کے اجتماع کا پرانا شیڈول موجودہ صورتحال میں غیر یقینی ہے۔
(ماخذ: اے ایف پی/چینل نیوز ایشیا، آج نیوز، ڈان)