طوفان ارناب: آندھرا پردیش میں 3 ہلاک، 31 گھر تباہ
طوفان ارناب نے بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں تباہی مچا دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے مطابق طوفان سے اب تک تین افراد ہلاک اور 31 گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ طوفان نے بدھ کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرایا تھا اور اس کے بعد کمزور ہو کر شدید طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ اوڈیشہ میں ابتدائی رپورٹس کے مطابق بڑا نقصان نہیں ہوا۔
تین ہلاکتیں کیسے ہوئیں؟
انڈین میڈیا اور این ڈی آر ایف کے انسپکٹر جنرل نریندر سنگھ بندیلا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص بھیماورم میں درخت گرنے سے جاں بحق ہوا جبکہ دو افراد ویشاکھاپٹنم اور اناکاپلی اضلاع میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کو لکھے خط میں بتایا کہ کم از کم 180 مکانات متاثر ہوئے، 220 درخت گر گئے اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ این ڈی آر ایف کے مطابق 31 مکانات کو براہ راست نقصان پہنچا ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کا اعداد سامنے آیا۔
فصلوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان
وزیر اعلیٰ نائیڈو کے خط کے مطابق تقریباً 70,900 ہیکٹر پر دھان اور 10,450 ہیکٹر پر باغبانی کی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں یا تباہ ہو گئیں۔ ویشاکھاپٹنم ہوائی اڈے پر 38 پروازیں منسوخ کی گئیں اور سڑکوں، بجلی کے کھمبوں اور درختوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ریاست نے وفاقی حکومت سے نقصان کے جائزے کے لیے مرکزی ٹیم بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ آندھرا پردیش اور اوڈیشہ میں 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو طوفان سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ تقریباً 57,000 افراد کو ریلیف کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔
طوفان کی شدت اور موجودہ صورتحال
بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان ارناب نے آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلوں کو 20 کلومیٹر مشرق شمال مشرق نرسا پور کے قریب عبور کیا اور لینڈ فال صبح 8:30 بجے تک مکمل ہو گیا۔ لینڈ فال کے وقت ہواؤں کی رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور جھکڑ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد طوفان بہت شدید طوفانی سے شدید طوفانی میں تبدیل ہوا اور پھر بتدریج کمزور ہو کر ڈیپ ڈپریشن کی شکل اختیار کر گیا۔ کچھ علاقوں میں 30 سینٹی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ کمزور ہونے کے باوجود اگلے دنوں میں مزید بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
امدادی کارروائیاں جاری
این ڈی آر ایف کی 39 ٹیمیں آندھرا پردیش، اوڈیشہ اور پڑوسی ریاستوں چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، پڈوچیری، تلنگانہ اور انڈمان و نکوبار میں تعینات ہیں۔ مزید 4 ٹیمیں گزشتہ رات آندھرا پردیش بھیجی گئیں۔ امدادی ٹیمیں گرے ہوئے درختوں کو ہٹانے، بجلی بحال کرنے اور متاثرہ علاقوں میں خوراک اور پانی پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اس طوفان کی تازہ ترین صورتحال پر ہماری سابقہ رپورٹس یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2382 اور https://niazitvnews.com/?p=2343 ۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں پر اس طوفان کا براہ راست خطرہ نہیں بتایا گیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
ذرائع: الجزیرہ، چینل نیوز ایشیا، دی ہندو (28 اکتوبر 2026)۔