امریکا ایران جنگ: قطر کی ثالثی، 7 روزہ معاہدے کی کوشش
قطر کی قیادت میں ثالثوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نیا مسودہ پیش کیا ہے، جس میں سات روزہ ٹائم لائن کے تحت روزانہ اعتماد سازی کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ تاہم ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے اسے پیشکش قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ نے صرف ناقابل قبول خیالات پیش کیے ہیں۔
نیا مسودہ کیا کہتا ہے
مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار کے مطابق، آٹھ ماہ سے جاری اس تنازع کے خاتمے کے لیے نیا مسودہ اتوار کو پیش کیا گیا اور تہران سے اس ہفتے کے آخر تک جواب متوقع ہے۔ مسودے میں سات دن کا شیڈول دیا گیا ہے، جس میں تہران اور واشنگٹن دونوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے روزانہ کے اقدامات درج ہیں، اور کئی ممالک اس معاہدے کے ضامن کے طور پر کام کریں گے۔ یہ جنگ عالمی جہاز رانی اور تیل کی سپلائی کو متاثر کر چکی ہے اور حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب اور یمن تک پھیل گئی ہے۔
ایران کا موقف
دوسری جانب مذاکرات میں شریک ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ قطر نے کوئی پیشکش نہیں کی، صرف ناقابل قبول خیالات پیش کیے، اور جوہری معاملے پر لچک نہ دکھانے کی تہران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا کہ تہران ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے اور اس کا اپنا سات روزہ منصوبہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں نافذ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو موقع دے رہا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ: معائنہ بمقابلہ پابندیوں میں نرمی
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق، ثالث ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کا دورہ کرنے کی اجازت دے، جس کے بدلے میں امریکا کی جانب سے کچھ پابندیوں میں نرمی کی جائے۔ رپورٹ میں امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ بھی اس کوشش کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیوس کو بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے ایران سے بات چیت ہو رہی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ کامیاب ہو گی یا نہیں۔ ان کے الفاظ میں، “ہمیں کام مکمل کرنا ہے — یا تو معاہدے کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے۔”
وینس کا خط اور مڈٹرم کا دباؤ
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کو خط لکھ کر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ خط صدر ٹرمپ کی ہدایت پر بھیجا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے کئی ہفتوں سے ایران کے خلاف بڑے حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے، اور 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے جنگ بندی کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ یہ تمام تفصیلات میڈیا رپورٹس اور ذرائع کے حوالے سے ہیں، کسی فریق کی جانب سے حتمی معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ: امریکا نے خلیجی ممالک کو مڈٹرم کے بعد حملے سے خبردار کر دیا اور آئی سی سی کی آزادی کے تحفظ کے لیے یورپ متحرک۔
ماخذ: ایگزیوس بذریعہ اے نیوز، بزنس ورلڈ، وال اسٹریٹ جرنل بذریعہ نیوز 24 (29 اکتوبر 2026)۔