اسرائیل انتخابات: شِن بیت غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات کرے گا

0

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین جسٹس نعام سولبرگ نے داخلی سلامتی ایجنسی شِن بیت سے ملک کے حالیہ انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کمیشن کے سربراہ نے شِن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی کو لکھے گئے خط میں ان الزامات کو “سنگین شبہات” قرار دیا ہے جن کے مطابق اسرائیل کے مفادات کے خلاف کام کرنے والے غیر ملکی عناصر نے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے فنڈنگ کی۔

کمیشن کے خط میں کیا کہا گیا؟

ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق جسٹس سولبرگ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ چونکہ یہ شبہات غیر ملکی عناصر سے متعلق ہیں، اس لیے ان کی تحقیقات لازمی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود ان الزامات کی صحت کا اندازہ نہیں لگا سکتے، لیکن انتخابات کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے تحقیقات ضروری ہے۔ شِن بیت نے تصدیق کی ہے کہ وہ تحقیقات کر رہی ہے، تاہم اس نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک ذریعے کے مطابق کمیشن کے سامنے یہ الزام پیش کیا گیا تھا کہ قطر نے اسرائیل کی عرب برادری میں ووٹنگ کی شرح بڑھانے کے لیے فنڈنگ فراہم کی۔ یروشلم پوسٹ کی رپورٹ میں قطر کے ساتھ ترکیہ کا نام بھی ممکنہ ذرائع میں شامل کیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ تحقیقات میں نقد رقم پر مشتمل لفافوں اور رعام پارٹی کے ووٹنگ پرچیوں کی اطلاعات بھی زیر غور ہیں۔ قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت نہیں کی۔

انتخابات کے نتائج پر اثر پڑے گا؟

یروشلم پوسٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ یہ تحقیقات حتمی نتائج کی اشاعت میں تاخیر نہیں کرے گی، اور نہ ہی صدر اسحاق ہرزوگ کو حکومت سازی کے لیے کسی پارٹی رہنما کے انتخاب سے روکے گی۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ پوچھنا کہ آیا اس سے دوبارہ انتخابات ہوں گے، ابھی بہت قبل از وقت ہے، کیونکہ پہلے یہ جانچنا ہوگا کہ آیا اس کا کنیسٹ کی نشستوں کی تقسیم پر کوئی اثر پڑا بھی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے نے کہا ہے کہ کمیشن کے علم کے مطابق ووٹ کی ساکھ کو منظم انداز میں متاثر کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے بھی ہارٹز کو بتایا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کے کوئی اشارے نہیں ملے، اور ان الزامات کو “بے بنیاد افواہیں” قرار دیا تھا۔

سیاسی ردعمل: الزامات اور جوابی الزامات

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ “اسرائیل کے انتخابات چرائے گئے” اور عرب ووٹرز کو رشوت دینے کا الزام لگایا ہے۔ لیکوڈ نے شِن بیت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان دعووں کی تحقیقات کے لیے تمام ذرائع استعمال کریں۔ نیتن یاہو کے اتحادی وزرا بتسلئیل اسموٹرچ اور ایتمار بن گویر نے بھی عرب پارٹی رہنماؤں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے برعکس یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی مداخلت کے الزامات کو رائے عامہ پر اثر انداز ہونے، نتائج کی اشاعت میں تاخیر اور آنے والی کنیسٹ کی ساکھ پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آئزن کوٹ نے کہا کہ کسی بھی مشتبہ غیر ملکی مداخلت کی مکمل اور فوری تحقیقات ہونی چاہیے، لیکن انتخابی فیصلے انتہائی احتیاط سے کیے جائیں اور 26 ویں کنیسٹ مقررہ وقت پر حلف اٹھائے۔

رعام پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے تحقیقات کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے نیتن یاہو کو جواب دیا کہ “کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ کچھ ہے ہی نہیں”۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے دفتر میں قطری ایجنٹ کام کرتے ہیں، جبکہ ان کی جماعت کے معاملے میں سچ یہی ہے کہ کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔

پس منظر: غیر حتمی انتخابات

یہ پیشرفت منگل 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں کسی بھی بلاک کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی۔ ابتدائی گنتی کے مطابق نیتن یاہو کے بلاک کو 53، آئزن کوٹ کے بلاک کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملی تھیں۔ حتمی نتائج 4 نومبر تک متوقع ہیں، جبکہ ڈبل لفافے والے ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔ صدر ہرزوگ حکومت سازی کے لیے مشاورت کا عمل آگے بڑھا رہے ہیں، اور اتحاد سازی کی کوششیں جاری ہیں۔

ذرائع: ہارٹز اور یروشلم پوسٹ، 29 اکتوبر 2026۔

مزید پڑھیں:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *