اسپین ٹرین حادثہ: ہلاکتیں 69 ہو گئیں

0

اسپین میں اوردا کے قریب پیش آنے والے تیز رفتار ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 69 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں جمعرات 29 اکتوبر کو بھی ملبے میں ممکنہ متاثرین کی تلاش میں مصروف رہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کاسٹیلا لا مانچا کے علاقائی صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے بتایا کہ رات بھر کی کارروائی کے دوران انسانی باقیات ملی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 68 سے بڑھ کر 69 ہو گئی۔ انہوں نے احتیاط کے ساتھ کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ الٹی ہوئی بوگی کے نیچے مزید کوئی ہلاکت ہو، لیکن یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔

ملبے میں تلاش اور اسپتالوں کی صورت حال

علاقائی حکومت کی ترجمان ایسٹر پاڈیلا نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں انتہائی احتیاط سے کام کر رہی ہیں کیونکہ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مڑے ہوئے ملبے میں کوئی اور متاثرہ شخص پھنسا ہوا نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کتوں کی ٹیمیں پہلے بھی تلاش میں حصہ لے چکی ہیں اور جمعرات کو دوبارہ ملبے کی جانچ کریں گی۔

رپورٹس کے مطابق کم از کم 57 زخمی افراد اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ 60 مریضوں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاقائی اسپتالوں میں 50 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 15 کو “کوڈ ریڈ” قرار دیا گیا تھا اور ان میں سے چار کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ زخمیوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں مختلف ذرائع میں فرق ہے، اس لیے حتمی اعداد کا انتظار ہے۔

حادثہ کیسے پیش آیا

یہ حادثہ بدھ 28 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 53 منٹ پر اوردا گاؤں کے قریب پیش آیا، جو میڈرڈ سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ سرکاری آپریٹر رینفے کی ٹرین، جس میں تقریباً 400 مسافر سوار تھے، نجی کمپنی ایریو کی رکی ہوئی ٹرین سے ٹکرا گئی، جس میں 152 مسافر تھے۔ دونوں ٹرینیں میڈرڈ کے آتوچا اسٹیشن سے سیویل کی جانب روانہ ہوئی تھیں۔

تحقیقات کے مطابق صبح تقریباً 8 بج کر 30 منٹ پر خودکار سگنلنگ نظام ایل زیڈ بی ناکام ہو گیا، جس کے باعث 69 کلومیٹر کے حصے پر چھ ٹرینوں کو روکنا پڑا۔ اس کے بعد ریل ٹریفک کا کنٹرول میڈرڈ کنٹرول سینٹر کو منتقل ہوا، جس نے رینفے ٹرین کو دوبارہ سفر کی اجازت دی۔ وزیر ٹرانسپورٹ اوسکار پوئنٹے نے اس فیصلے کو “ناقابل فہم” قرار دیا ہے، کیونکہ سرخ سگنل کی موجودگی میں ٹرین کو رکا رہنا چاہیے تھا۔

ہڑتال، سوگ اور سیاسی اثرات

جمعرات کو اسپین کے ٹرین ڈرائیوروں نے ریلوے سیفٹی میں مزید سرمایہ کاری کے مطالبے کے لیے پہلے سے طے شدہ ہڑتال جاری رکھی۔ ڈرائیوروں کی یونین سیماف کے رہنما ڈیاگو مارٹن نے کہا کہ وہ اس شعبے کو دوبارہ محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کا مطالبہ جاری رکھیں گے۔

اسپین میں 29 سے 31 اکتوبر تک تین روزہ قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کی جگہ کا دورہ کیا اور وعدہ کیا کہ حادثے کی ہر تفصیل سامنے لائی جائے گی اور حفاظتی اقدامات مضبوط کیے جائیں گے۔ یہ حادثہ 2013 کے بعد یورپ کا مہلک ترین ٹرین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے، اور اس نے 29 نومبر کے قبل از وقت انتخابات کی مہم کو بھی متاثر کیا ہے، جس میں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے مہم کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

یہ رواں سال اسپین میں دوسرا مہلک تیز رفتار ٹرین حادثہ ہے؛ جنوری 2026 میں اسی لائن پر اسی کمپنیوں کی ٹرینوں کے حادثے میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ میڈرڈ–اندلوسیا تیز رفتار لائن تاحال بند ہے۔

مزید پڑھیں: میڈرڈ میں حادثے کے بعد احتجاج اور پولیس سے جھڑپ سے متعلق ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=2622 اور ہلاکتوں کی تعداد 68 تک پہنچنے کی خبر https://niazitvnews.com/?p=2459 بھی ملاحظہ کریں۔

ذرائع: رائٹرز، اے ایف پی، ایل موندے، بورنیو پوسٹ — 29 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *