پٹرول 377.91 روپے برقرار، ڈیزل 400.67 روپے ہو گیا
حکومت نے 30 اکتوبر 2026 کے لیے پٹرول کی قیمت برقرار رکھتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل 85 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول 377.91 روپے فی لیٹر پر ہی فروخت ہو گا جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 400.67 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ 30 اکتوبر سے ہو گا۔
ڈیزل کی قیمت میں یہ اضافہ ایک روز پہلے کیے گئے اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ 29 اکتوبر کے لیے پٹرول 1.85 روپے اور ڈیزل 1.75 روپے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔ اب 85 پیسے کے تازہ اضافے کے ساتھ ڈیزل ایک بار پھر 400 روپے کی حد عبور کر گیا ہے۔
نئی قیمتیں کیا ہیں؟
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی کے مطابق موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399.82 روپے سے بڑھ کر 400.67 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن نے بتایا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں ردوبدل عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے کیا گیا ہے، جن میں پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔
حکومت نے حالیہ ہفتوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ اعلان شروع کیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں تبدیلیاں مقامی قیمتوں میں زیادہ تیزی سے منعکس ہو سکیں۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ قیمتیں عالمی منڈی کے سات روزہ اوسط ریٹس کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔ اس نظام کا مقصد قیمتوں میں شفافیت بڑھانا اور صارفین کو عالمی رجحانات سے آگاہ رکھنا ہے۔
ڈیزل مہنگا ہونے سے کس پر اثر پڑے گا؟
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہ راست مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زراعت اور تعمیرات پر اثر ڈالتا ہے، کیونکہ ٹرک، بسیں، ٹریکٹر اور جنریٹر زیادہ تر ڈیزل پر چلتے ہیں۔ اس لیے ڈیزل مہنگا ہونے سے اشیائے خوردونوش کی ترسیل اور سفری اخراجات میں اضافے کا خدشہ رہتا ہے۔ دوسری جانب پٹرول کی قیمت برقرار رہنے سے موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والے صارفین کو وقتی ریلیف ملا ہے۔
عالمی منڈی میں بھی صورتحال ملی جلی رہی ہے۔ جمعرات کو امید پیدا ہوئی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بحال ہو سکتے ہیں، جس سے سپلائی میں خلل کے خدشات کم ہوئے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ 113.77 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 100.78 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔ اس کے باوجود مقامی سطح پر ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، جو عالمی ریٹس کے سات روزہ اوسط کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔
اکتوبر میں قیمتوں کا سفر
اکتوبر 2026 کے دوران پٹرولیم قیمتوں میں کئی بار ردوبدل ہوا ہے۔ مہینے کے آغاز میں پٹرول 387.40 روپے فی لیٹر تھا جو مختلف دنوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد 30 اکتوبر کو 377.91 روپے پر آ گیا ہے، یعنی مہینے کے آغاز کے مقابلے میں پٹرول تقریباً 9.49 روپے سستا ہوا ہے۔ ڈیزل کی قیمت بھی اسی عرصے میں اوپر نیچے ہوتی رہی ہے، لیکن 30 اکتوبر کو وہ 400.67 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قریبی پٹرول پمپ پر نئی قیمتوں کی تصدیق کر لیں، کیونکہ روزانہ قیمتوں کے نظام میں اگلے روز نئی قیمت کا اعلان ہو سکتا ہے۔ اوگرا کی ویب سائٹ پر روزانہ پٹرولیم قیمتوں کی تفصیل بھی شائع کی جاتی ہے۔
گزشتہ روز کی قیمتوں کے بارے میں ہماری خبر یہاں پڑھیں: پٹرول 377.91 روپے، ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر۔ ڈالر کے نرخوں کی تازہ صورتحال یہاں دیکھیں: ڈالر ریٹ 29 اکتوبر۔
ذرائع: اے آر وائی نیوز، آج انگلش، دنیا نیوز اور پاکستان ٹوڈے (پرافٹ) کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس؛ پٹرولیم ڈویژن کا نوٹیفکیشن۔