صوابی میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ناکام: 169 کارکن گرفتار، خیبر میں گورنر راج کے خلاف مظاہرے
پاکستان تحریک انصاف کا صوابی میں مشتہر لانگ مارچ پیر 12 اکتوبر کو مکمل ناکام ہو گیا — پارٹی قیادت کے دعوؤں کے باوجود ایک بھی کارکن سامنے نہیں آیا اور ضلعی قیادت بھی سارا دن غائب رہی۔ پولیس نے صوابی میں 180 سے زائد کارکن گرفتار کیے جن میں تصدیق شدہ تعداد 169 ہے؛ گرفتاریاں شیوا اڈا، یار حسین، رزڑ، صوابی خاص، ٹوپی، لاہور اور گدون میں ہوئیں اور گرفتار ہونے والوں میں ضلعی سینئر نائب صدر محمد ایاز تاج آباد، رئیس خان اور مصطفیٰ خان سمیت کئی مقامی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتاریاں لانگ مارچ کی تیاریوں اور امن و امان کی خرابی کے خدشے پر کی گئیں، اور ہر تھانے کو مزید گرفتاریوں کے اہداف دے دیے گئے ہیں (دی ایکسپریس ٹربیون)۔
خیبر میں گورنر راج کے خلاف مظاہرے
دوسری طرف خیبر قبائلی ضلع میں ایمرجنسی کے دوسرے دن جمرود اور باڑہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اور سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حمایت میں مظاہرے ہوئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر کی تصدیق کے مطابق 30 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ باڑہ بازار میں مین خیبر چوک، قمبر آباد مارکیٹ اور سر مینار کے گرد سارا دن پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی رہی؛ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیا، جس سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں اور علاقے کی خواتین اور بچوں کو بھی تکلیف پہنچی۔
باڑہ میں آفریدی کا حجرہ سیل
خبریں ہیں کہ پولیس نے باڑہ میں سہیل آفریدی کا حجرہ سیل کر دیا ہے، تاہم اس کی کوئی سرکاری وضاحت نہیں دی گئی۔ جمرود میں پی ٹی آئی کارکنوں نے بابِ خیبر کے پاس جمع ہو کر ایمرجنسی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس کی بھاری موجودگی نے علاقے کو سخت کنٹرول میں رکھا، جس سے خیبر کے بعض حصوں میں تجارتی زندگی اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے جبکہ صوابی سیکیورٹی حصار میں زیادہ تر پرامن رہا۔
پس منظر اور آگے کیا
11 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر کے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ختم کر دی تھی، جس کے بعد پولیس کی کارروائی تیز ہوئی ہے۔ صوابی انٹرچینج وہی مقام تھا جہاں قافلے کی آمد اور آگے بڑھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ آج کے روز توجہ عدالتی اور پارلیمانی محاذ پر ہے: بیرسٹر گوہر پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج چیلنج کر رہے ہیں، اور شام 6:15 بجے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاسوں میں ایمرجنسی کی منظوری پر غور ہوگا۔
ماخذ: The Express Tribune