یوکرین نے روسی ریفائنریوں پر حملے روک دیے
یوکرین کی فوج نے روسی تیل ریفائنریوں پر اپنے حملے روک دیے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد کیا گیا، جس نے کیف کے امریکی حمایت پر اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رپورٹ میں آپریشن سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ غیر اعلانیہ وقفہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک، اور ممکنہ طور پر نومبر میں مزید آگے تک جاری رہ سکتا ہے۔ یوکرین کی حکومت نے اس وقفے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، اور خبر رساں ادارے رائٹرز نے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
وقفہ کب اور کیسے شروع ہوا
رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے وسط میں طویل فاصلے تک حملے کرنے والی یوکرینی یونٹوں کو بتایا گیا کہ پہلے سے جاری مشن مکمل ہونے کے بعد ریفائنریوں کے خلاف مہم عملاً روک دی جائے۔ یہ وقفہ گزشتہ ہفتے کے اوائل میں اس وقت شروع ہوا جب امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں شدید بحران پیدا ہوا۔ اس سے چند روز قبل ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے یوکرین کے لیے اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے استعمال کو محدود کر دیا تھا۔ یوکرین کے وزیر دفاع یوگینی خمارا نے زیلنسکی کو بتایا تھا کہ فوج نے نازک سفارتی صورت حال کے باعث ریفائنری حملوں سے گریز کرنا بہتر سمجھا ہے۔
زیلنسکی کا موقف اور امریکی مطالبہ
زیلنسکی نے منگل کو کیف میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے فوجیوں نے ان دنوں کچھ زیادہ احتیاط برتی، لیکن انہیں ریفائنریوں پر حملہ نہ کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے زیادہ تحفظ چاہتا ہے، جسے روس سردیوں سے قبل میزائل اور ڈرون حملوں سے منظم انداز میں تباہ کر رہا ہے، اور اس کے بدلے میں وہ حملے روکنے پر غور کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی مذاکرات کاروں نے اوسلو میں ملاقات کے دوران زیلنسکی سے کہا تھا کہ 30 روز کا وقفہ امریکا کی ثالثی کی کوششوں کے لیے شکرگزاری کا اظہار ہوگا۔ امریکی حکام نے کہا کہ اسٹار لنک کا معاملہ اور ریفائنری حملوں کا معاملہ آپس میں منسلک نہیں تھے۔
آخری حملے اور یورپی اتحادیوں کا مشورہ
رپورٹ کے مطابق 20 اکتوبر کو یوکرین نے روس کے تمبوف خطے میں دروزبا پائپ لائن کے ایک آئل پمپنگ اسٹیشن کو نشانہ بنایا تھا، اور اس کے بعد سے روسی تیل کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل کے دنوں میں یوکرین نے سینٹ پیٹرزبرگ میں تیل کی تنصیبات، ریازان خطے میں ایک ریفائنری اور سائبیریا کے سرگٹ میں ایک بڑے گیس پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ یوکرین کی ریفائنریوں کے خلاف مہم کا مقصد تیل کی آمدنی کو کمزور کرنا تھا، جو روس کے یوکرین پر حملے کی مالی معاونت میں مدد دیتی ہے۔ یورپی اتحادیوں نے بھی زیلنسکی کو مشورہ دیا تھا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے قریب توانائی کی قیمتوں کی سیاسی حساسیت کا خیال رکھا جائے۔
یوکرین اور روس کے درمیان یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا کی حمایت سے امن مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے قبل بھی یوکرین سے متعلق امریکی فیصلوں نے عالمی توجہ حاصل کی تھی، جیسا کہ ٹرمپ کا دعویٰ — مسک نے یوکرین کی اسٹار لنک رسائی بحال کر دی (https://niazitvnews.com/?p=1486) اور ایلون مسک کا یوکرین کے ڈرونز کے لیے اسٹار شیلڈ کی رفتار کم کرنے کا حکم (https://niazitvnews.com/?p=1374) کی خبروں میں دیکھا گیا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ وقفہ انتخابات کے بعد بھی برقرار رہتا ہے یا یوکرین اپنی طویل فاصلے کی مہم دوبارہ شروع کرتا ہے۔
ماخذ: وال اسٹریٹ جرنل، رائٹرز (30 اکتوبر 2026)