پی ٹی آئی کا بڑا فیصلہ: اسمبلیوں سے استعفے نہیں، ہر فورم پر مزاحمت — شہباز شریف نے کے پی مانیٹرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس بلا لیا

0
Parliament House Islamabad at dusk — file image / اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس — فائل فوٹو

ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے ایک دن بعد پاکستان تحریک انصاف نے پیر (12 اکتوبر) کو اعلان کیا کہ پارٹی احتجاج میں اسمبلیوں سے استعفے دینے کے بجائے سسٹم میں رہ کر وفاقی اقدامات کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن اتحاد (ٹی ٹی اے پی) کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس بھی موجود تھے (دی نیشن)۔

استعفے کیوں مسترد کیے گئے

سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ملاقات کے بعد بتایا کہ پارلیمانی پارٹی نے اجتماعی استعفے مسترد کر دیے کیونکہ یہ “الٹا نقصان” پہنچاتا۔ ان کے الفاظ تھے: “We will raise our voice at every level, inside and outside Parliament” (اردو ترجمہ: ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر، ہر سطح پر اپنی آواز اٹھائیں گے)۔ انہوں نے مزید کہا: “We will resist at every level and hold our protest that will be peaceful, constitutional, legal and effective” (اردو ترجمہ: ہم ہر سطح پر مزاحمت کریں گے اور پرامن، آئینی، قانونی اور موثر احتجاج کریں گے)۔ یہ ان بعض رہنماؤں کے مطالبات کے برعکس فیصلہ ہے جو کے پی حکومت کی برطرفی پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کی دھمکی دے رہے تھے۔

بیرسٹر گوہر: 11 اکتوبر جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ دن

ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین گوہر نے 11 اکتوبر کو ملک کی جمہوری تاریخ کا “سیاہ دن” قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بہنوں اور اہلیہ سمیت 1500 سے زائد کارکن زیر حراست ہیں (یہ بیرسٹر گوہر کا اپنا دعویٰ ہے؛ پولیس کے اعداد اس سے مختلف ہیں)۔ ان کا کہنا تھا: “We will raise our voice at every forum against whatever steps have been taken” (اردو ترجمہ: مرکز نے جو بھی اقدامات کیے ہیں، ان کے خلاف ہم ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے)، اور “Our long march and protest continue as we don’t accept this” (اردو ترجمہ: ہمارا لانگ مارچ اور احتجاج جاری ہے، ہم یہ قبول نہیں کرتے)۔ انفارمیشن سیکرٹری شیخ وقاص اکرم نے اعلان کیا کہ پارٹی “عدالتوں، پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور عوامی تحریک” کے ذریعے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

شہباز شریف نے مانیٹرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس بلا لیا

دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو خیبر پختونخوا کے امور کی نگرانی کے لیے بنائی گئی مانیٹرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس بلایا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، ایمرجنسی کے بعد کے انتظامی اقدامات اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے امور پر غور کیا گیا۔ یہ کمیٹی اب صوبے کے معاملات پر وفاقی نگرانی کا مرکزی فورم ہوگی۔

آج کے فیصلے

آج (منگل) تین اہم پیشرفتیں متوقع ہیں: بیرسٹر گوہر کا پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج چیلنج، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے احتجاج کی نوعیت کا فیصلہ، اور شام 6:15 بجے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس جن میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری پر غور ہوگا۔ آج کے فیصلے آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاسی صورتحال کی سمت طے کریں گے۔

ماخذ: The Nation

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *