امریکہ کی معیشت 3.4 فیصد بڑھ گئی، توقعات سے بہتر

0

امریکہ کی معیشت نے 2026 کی تیسری سہ ماہی میں سالانہ شرح سے 3.4 فیصد ترقی کی ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے ادارے بیورو آف اکنامک اینالیسز (بی ای اے) نے 29 اکتوبر کو جاری کردہ ابتدائی اندازے میں بتایا کہ جولائی سے ستمبر کے دوران حقیقی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں یہ اضافہ ہوا، جو دوسری سہ ماہی کے 2.2 فیصد سے واضح طور پر تیز ہے اور ماہرین کی 3.1 سے 3.2 فیصد کی پیش گوئی سے بھی آگے ہے۔ موجودہ ڈالر میں معیشت کی مالیت میں سالانہ شرح سے 5.6 فیصد اضافہ ہوا۔

ترقی کی رفتار کیوں تیز ہوئی؟

بی ای اے کے مطابق ترقی کی رفتار میں تیزی کی سب سے بڑی وجہ سرمایہ کاری تھی۔ نجی سرمایہ کاری میں سالانہ شرح سے 19.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوسری سہ ماہی میں یہ شرح صرف 4.6 فیصد تھی۔ اس میں خاص طور پر آلات کی خریداری نمایاں رہی، جو 20.9 فیصد بڑھی، اور اس کی قیادت کمپیوٹرز اور متعلقہ آلات نے کی۔ نجی انوینٹری میں اضافے نے بھی ترقی میں 1.61 فیصدی پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔

صارفین کے اخراجات اور حکومتی اخراجات میں اضافہ بھی ترقی کا سہارا بنا، جبکہ برآمدات میں کمی نے اس رفتار کو کچھ حد تک روکا۔ صارفین کے اخراجات اور نجی سرمایہ کاری پر مشتمل پیمانہ، یعنی نجی ملکی خریداروں کو حقیقی حتمی فروخت، 4.9 فیصد بڑھی، جو دوسری سہ ماہی کے 4.6 فیصد سے زیادہ ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق کاروباری سرمایہ کاری میں 12.7 فیصد اضافہ ہوا اور صارفین کے اخراجات 3.8 فیصد بڑھے، جو 2024 کے آخر کے بعد سب سے مضبوط رفتار ہے۔

مہنگائی کی تصویر ملی جلی

مہنگائی کے حوالے سے اعداد ملی جلی تصویر پیش کرتے ہیں۔ سہ ماہی کی بنیاد پر ذاتی مصرفی اخراجات (پی سی ای) کا قیمتوں کا اشاریہ سالانہ شرح سے 2.1 فیصد بڑھا، جو دوسری سہ ماہی کے 5.0 فیصد سے بہت کم ہے۔ بنیادی پی سی ای، جس میں خوراک اور توانائی شامل نہیں، 2.5 فیصد بڑھا، جو پہلے 3.3 فیصد تھا۔

تاہم سالانہ بنیاد پر تصویر مختلف ہے۔ ستمبر میں پی سی ای مہنگائی ایک سال پہلے کے مقابلے میں 3.6 فیصد رہی، جو اگست کے 3.4 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ بنیادی پی سی ای سالانہ 3.1 فیصد رہی۔ ستمبر میں حقیقی ڈسپوزایبل آمدنی میں 0.3 فیصد کمی بھی رپورٹ ہوئی، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اخراجات کی مضبوطی میں سے کتنا حصہ عوام کی اصل قوت خرید میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

یہ اعداد کیوں اہم ہیں؟

یہ ابتدائی اندازہ ہے، یعنی مکمل اعداد ابھی دستیاب نہیں، اس لیے اس میں نظرثانی ہو سکتی ہے۔ بی ای اے 25 نومبر کو تیسری سہ ماہی کا دوسرا اندازہ جاری کرے گا، جس میں کمپنیوں کے منافع کا تخمینہ بھی شامل ہوگا۔ ماہرین کے مطابق 3.4 فیصد کی سالانہ شرح کا مطلب یہ نہیں کہ تین مہینوں میں معیشت اتنی بڑھی، بلکہ سہ ماہی کی شرح 0.8 فیصد تھی، جسے سالانہ بنیاد پر ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور فیڈرل ریزرو مہنگائی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مضبوط ترقی اور سالانہ مہنگائی میں اضافے کا امتزاج مرکزی بینک کے لیے فیصلہ سازی کو مشکل بنا سکتا ہے، کیونکہ شرح سود میں کمی کی توقعات اور مہنگائی کے خدشات ایک ساتھ موجود ہیں۔

یورپ میں بھی مرکزی بینکوں کی قیادت میں تبدیلی کی خبریں ہیں، یورپی مرکزی بینک کی صدر کی روانگی کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2684
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے عالمی بینک کی پیش گوئی یہاں ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=1348

ذرائع: امریکی بیورو آف اکنامک اینالیسز کے 29 اکتوبر 2026 کے ابتدائی اندازے اور اس پر مبنی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *