عامر جمال کی شاندار کارکردگی، مارخور نے ٹرافی جیت لی
لاہور میں کھیلے گئے پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون کے فائنل میں مارخور آئی ٹی سولیوشنز نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ آل راؤنڈر عامر جمال نے اس جیت میں مرکزی کردار ادا کیا، جنہوں نے پہلی اننگز میں 32 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں اور دوسری اننگز میں آٹھویں نمبر پر آ کر 55 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ باغ جناح کرکٹ گراؤنڈ لاہور میں جمعہ 30 اکتوبر کو ختم ہونے والا یہ فائنل مارخور کی پہلی فرسٹ کلاس سیزن میں ہی ٹائٹل جیتنے کی کہانی بن گیا۔
فائنل کا خلاصہ
مارخور کے کپتان خالد عثمان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، مگر ان کی ٹیم صرف 112 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ عتیزاز حبیب خان 29 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے سراج الدین نے 39 رنز دے کر 6 اور شاہد عزیز نے 39 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں اسٹیٹ بینک کی ٹیم بھی 172 رنز پر سمٹ گئی، جس میں حسن رضا کے 36 اور سراج الدین کے ناقابل شکست 32 رنز شامل تھے۔ عامر جمال نے 14 اوورز میں 4 میڈن کے ساتھ 32 رنز دے کر 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور اپنی ٹیم کو صرف 60 رنز کی برتری کا سامنا کرنے دیا۔
دوسری اننگز میں مارخور نے 296 رنز بنائے اور 237 رنز کا ہدف دیا۔ ابوذر طارق نے 148 گیندوں پر 85 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جبکہ عامر جمال نے 81 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 55 رنز بنائے۔ محمد عباس نے 70 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں 60 ویں پانچ وکٹوں کی کارکردگی تھی۔ ہدف کے تعاقب میں اسٹیٹ بینک کی دوسری اننگز 185 رنز پر ختم ہوئی، جس میں خالد عثمان نے 38 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں اور عامر جمال نے ایک اور وکٹ حاصل کی۔ یوں مارخور نے میچ میں مجموعی طور پر 8 وکٹیں لینے والے عامر جمال کی بدولت ٹرافی اٹھا لی۔
عامر جمال کا میچ
عامر جمال کو ان کی آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ پہلی اننگز میں ان کی 7 وکٹیں ان کی بہترین بولنگ کارکردگی قرار دی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری اننگز میں وہ اس وقت کریز پر آئے جب ٹیم 175 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی تھی اور برتری صرف 115 رنز تھی۔ انہوں نے اننگز کو سنبھالا اور برتری کو 200 سے آگے لے گئے، جس نے اسٹیٹ بینک کے لیے ہدف مشکل بنا دیا۔ ٹورنامنٹ میں انہوں نے صرف تین میچ کھیلے، جن میں 118 رنز بنائے اور 18.20 کی اوسط سے 10 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ فائنل منگل 27 اکتوبر کو شروع ہوا تھا اور پانچ روزہ مقابلے کے چوتھے دن ہی فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا، جہاں تیسرے دن کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کو جیت کے لیے 72 رنز درکار تھے اور اس کی 3 وکٹیں باقی تھیں۔
ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہونے کا جواب
یہ کارکردگی عامر جمال کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ حال ہی میں ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہوئے ہیں۔ وہ ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں انگلینڈ کے دورے کے دوران لارڈز میں 194 رنز کی شکست کے بعد وطن واپس بھیج دیا گیا تھا، اور وہ سری لنکا کے خلاف آئندہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے اسکواڈ میں بھی جگہ نہیں بنا سکے۔ انہوں نے اب تک 9 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جن میں 23.66 کی اوسط سے 355 رنز اور 35.21 کی اوسط سے 23 وکٹیں حاصل کی ہیں، اور ان کا آخری ٹیسٹ جولائی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا۔ ڈومیسٹک فائنل میں اس شاندار کارکردگی کو ان کی جانب سے سلیکٹرز کو ایک مضبوط جواب قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹورنامنٹ کی تفصیل
پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون 2026-27 آٹھ ٹیموں کا فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ ہے، جس میں راؤنڈ رابن لیگ کے بعد سرفہرست دو ٹیمیں پانچ روزہ فائنل کھیلتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے لیگ مرحلے میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 107 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، مگر فائنل میں مارخور نے بازی پلٹ دی۔ مارخور آئی ٹی سولیوشنز کا تعلق پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز سے بتایا جاتا ہے، اور اس نے اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس سیزن میں ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ فائنل کا مقام پہلے کراچی میں طے تھا، مگر بعد میں اسے لاہور منتقل کر دیا گیا تھا۔
پاکستانی کرکٹ میں ان دنوں تیز کرکٹ کی دھوم بھی جاری ہے، جہاں ہانگ کانگ سکسز میں پاکستان نے بھارت کو 4 وکٹوں سے ہرا دیا (link: https://niazitvnews.com/?p=2750) اور اس سے قبل یو اے ای نے پاکستان کو آخری اوور میں شکست دی تھی (link: https://niazitvnews.com/?p=2738 ڈومیسٹک سطح پر اس ٹائٹل نے عامر جمال کی واپسی کی امیدوں کو بھی نئی جان بخش دی ہے۔
ذرائع: وزڈن، دی کرنٹ، ڈان، ٹریبیون اور اے پی پی کے مطابق۔