خاران میں ڈرون حملہ ناکام: 5 ڈرون مار گرائے گئے
بلوچستان کے ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز نے جمعے کو ایک چیک پوسٹ پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں نے خاران کے علاقے البٹ میں ایک چیک پوسٹ کو کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت اور مؤثر جواب دیتے ہوئے تمام 5 ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا۔ اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
حملہ کیسے ہوا اور کیسے ناکام بنایا گیا؟
اے آر وائی نیوز اور ڈیلی پاکستان کی رپورٹس کے مطابق، سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ ڈرونز مبینہ طور پر فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر کی جانب سے بھیجے گئے تھے، جو پاکستان میں بھارت کی مبینہ پراکسی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ ڈرونز نے چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن سیکیورٹی فورسز نے انہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، ڈرونز کے ملبے کی جانچ اور علاقے میں سرچ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ حملے کی ذمہ داری یا حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں تاحال کوئی آزادانہ تصدیق شدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے؛ یہ تفصیلات سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی گئی ہیں۔
خاران میں ڈرون حملوں کا حالیہ سلسلہ
خاران میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ روز بھی خاران کے علاقے پٹکن میں ایک مرکزی کیمپ کو مبینہ طور پر 5 ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد مارٹر فائر بھی کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں بھی جانی نقصان کے سرکاری اعداد و شمار فوری طور پر سامنے نہیں آئے تھے۔ اس سے تین روز قبل سوراب کے ترکی ڈیم کے مقام پر بھی ایک فوجی کیمپ پر ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بلوچستان پوسٹ جیسی مقامی رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے رواں سال کے دوران اپنی فضائی شاخ “قہر” کے قیام کا اعلان کیا تھا، تاہم حالیہ خاران واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا مؤقف
سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن جاری رہیں گے۔ اسی ہفتے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع کچھی اور وڈھ میں دو انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 9 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ حکام کے مطابق، “عزم استحکام” کے وژن کے تحت انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال
بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران ڈرون حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو سیکیورٹی چیلنج کی ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتا ہے۔ کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز چھوٹے، سستے اور مشکل سے شناخت ہونے والے ہتھیار ہیں، جن کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو نئی ٹیکنالوجی اور حکمت عملی اپنانا پڑ رہی ہے۔ خاران کا آج کا واقعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں تمام ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا، جس سے کسی جانی نقصان سے بچا جا سکا۔
متعلقہ خبریں
بلوچستان میں شورو پارود انخلا کی ڈیڈ لائن سے متعلق خبر یہاں پڑھیں: شورو پارود: 30 اکتوبر کی ڈیڈ لائن، انخلا پر احتجاج (https://niazitvnews.com/?p=2692)۔ یورپ کے تیل ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کی خبر یہاں ملاحظہ کریں: یورپ: ذخائر سے 4 کروڑ 26 لاکھ بیرل تیل جاری ہوگا (https://niazitvnews.com/?p=2782)۔
ماخذ: اے آر وائی نیوز، ڈیلی پاکستان اور اب تک نیوز (30 اکتوبر 2026) کی رپورٹس، سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے؛ حملہ آوروں کی وابستگی کی تصدیق تاحال آزادانہ طور پر نہیں ہوئی ہے۔