آبنائے ہرمز: اہم راستے بارودی سرنگوں سے صاف
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعے کو جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اہم تجارتی راستے ایرانی بارودی سرنگوں سے صاف ہو چکے ہیں اور امریکی افواج ان راستوں کی گشت جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی تجارت کا یہ اہم گزرگاہ کھلا رہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے گزشتہ روز چار ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس سے دونوں فریقین کے دعووں میں براہ راست تضاد پیدا ہو گیا ہے۔
کوپر کا بیان: کیا کہا گیا؟
گلف نیوز اور شفق نیوز کی رپورٹس کے مطابق، ایڈمرل کوپر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ انہوں نے 25 اکتوبر کو آبنائے ہرمز کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے امریکی فوج کے سی ایچ 47 چینوک ہیلی کاپٹر سے اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کا فضائی جائزہ لیا۔ کوپر کے مطابق، اس دورے کے دوران انہوں نے درجنوں تجارتی بحری جہاز اور امریکی فوجی اثاثے دیکھے، لیکن ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی کوئی موجودگی نظر نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا: “آج آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے ہمارے اہلکاروں کی شاندار کوششوں کی بدولت ایرانی بارودی سرنگوں سے آزاد اور صاف ہیں۔”
سینٹ کام کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ کے دوران 3,000 سے زائد تجارتی بحری جہازوں نے امریکی مدد سے آبنائے ہرمز سے گزر کیا ہے، جبکہ موسم گرما سے اب تک امریکی افواج نے خلیجی شراکت داروں کو 1.5 ارب بیرل سے زائد خام تیل برآمد کرنے میں مدد کی ہے۔ کوپر نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج انتہائی چوکس ہیں اور اہم راستوں کو صاف رکھنے کے لیے گشت جاری رکھیں گی۔
ایران کا جوابی دعویٰ
دوسری جانب، ایران کی مسلح افواج نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار ٹینکر آبنائے ہرمز میں اور اس کے آس پاس بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ آئی آر جی سی کی بحریہ کے مطابق، تین ٹینکر آبنائے کے جنوبی راستے پر پھٹے، جسے تہران غیر مجاز راستہ قرار دیتا ہے، جبکہ ایرانی فوج نے چوتھے جہاز کے مشرقی جانب بارودی سرنگ سے متاثر ہونے کی اطلاع دی۔ آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے سینٹ کام کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اپنے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے دعوے کو آزادانہ شواہد سے ثابت کرے، نہ کہ صرف بیانات سے۔
یہ تضاد اس لیے اہم ہے کہ دونوں فریق مختلف راستوں کی بات کر رہے ہیں: امریکا “بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اہم راستوں” کی صفائی کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ جنوبی راستہ، جو عمان کے ساحل کے قریب ہے اور جسے امریکی جنگی جہازوں کی حفاظت حاصل ہے، تہران کی نظر میں غیر مجاز ہے اور وہاں بارودی سرنگیں موجود ہیں۔
پس منظر: ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی تیل تجارت کی سب سے اہم گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جس سے عام حالات میں عالمی تیل کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے ایران نے اس گزرگاہ پر آمد و رفت کو سخت محدود کر دیا تھا، جس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کی اور تجارتی ٹینکروں کی حفاظت شروع کی۔ امریکی توانائی اطلاعات کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، ہرمز سے تیل کی ترسیل 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں 21.6 ملین بیرل یومیہ سے گر کر 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 4.9 ملین بیرل یومیہ رہ گئی تھی۔
آئندہ کیا ہوگا؟
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں: امریکی ایلچی ٹام بیرک نے جمعرات کی رات کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران “بہت قریب” ہیں کہ وہ ایک عارضی جنگ بندی (ٹائم آؤٹ) پر متفق ہو جائیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اصرار کیا ہے کہ تہران کی سات شرائط پہلے پوری ہونی چاہئیں۔ دوسری جانب، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن نے خلیجی اتحادیوں کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر اور شدید مہم کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے۔ ان تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے، اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔
متعلقہ خبریں
آبنائے ہرمز میں ٹینکر پر دھماکہ خیز حملے کی خبر یہاں پڑھیں: آبنائے ہرمز میں ٹینکر پر دھماکہ خیز حملہ، عملہ محفوظ (https://niazitvnews.com/?p=2752)۔ ایران کے 7 روزہ امن منصوبے کی تفصیل یہاں ملاحظہ کریں: ایران کا 7 روزہ امن منصوبہ، وینس کا خط موصول (https://niazitvnews.com/?p=2742)۔
ماخذ: گلف نیوز اور شفق نیوز (30 اکتوبر 2026) کی رپورٹس، سینٹ کام کے ویڈیو بیان کے حوالے سے؛ ایران کے دعوے آئی آر جی سی کے بیان کے طور پر پیش کیے گئے ہیں، دونوں دعووں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔