یوکرین کا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ
یوکرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ 29 اکتوبر کو ڈنیپرو، چرنیہیو اور کرمیں چوک شہروں پر روسی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں یوکرین کے مستقل مندوب کے مطابق 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یوکرین کے مندوب آندری میلنک نے 30 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کا اعلان کیا اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط بھی لکھا ہے۔
میلنک نے کیا کہا
آندری میلنک نے اپنے پیغام میں کہا کہ ڈنیپرو، چرنیہیو اور کرمیں چوک میں شہریوں پر روسی میزائلوں نے جان بوجھ کر حملے کیے، جن میں 20 یوکرینی شہری ہلاک ہوئے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے ساتھ روس کو اقوام متحدہ سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا۔ میلنک نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ میں بات چیت ابھی تک عملی اقدام میں تبدیل نہیں ہو سکی، لیکن یوکرین سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور کمیٹیوں سمیت ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ یوکرین میں کیا ہو رہا ہے۔
تین شہروں میں کیا ہوا
ڈنیپرو میں 29 اکتوبر کی صبح ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر حملہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق وہاں 14 سے 15 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جن میں ایک 11 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ چرنیہیو میں ڈرون حملے میں دو 15 سالہ لڑکیاں ہلاک ہوئیں اور کم از کم 25 سے 35 افراد زخمی ہوئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ کرمیں چوک میں ایک رہائشی عمارت پر ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق گزشتہ ایک دن کے دوران یوکرین بھر میں روسی حملوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور 128 زخمی ہوئے۔
سلامتی کونسل میں رکاوٹ کیا ہے
یوکرین کی یہ اپیل اس لیے بھی اہم ہے کہ روس سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں شامل ہے اور اسے ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جس سے وہ اپنے خلاف ٹھوس قراردادوں کو روک سکتا ہے۔ اس کے باوجود یوکرین کا کہنا ہے کہ ہنگامی اجلاس سے عالمی توجہ شہری ہلاکتوں پر مرکوز ہوگی اور روس پر سفارتی دباؤ بڑھے گا۔ سلامتی کونسل کی صدارت اس وقت یونان کے پاس ہے، جسے یوکرین نے اجلاس بلانے کا خط لکھا ہے۔
رات کے حملے بھی جاری
اسی دوران 30 اکتوبر کی رات بھی یوکرین پر حملے جاری رہے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے بیلسٹک میزائل، گائیڈڈ میزائل اور 113 ڈرون داغے، جن میں سے 96 ڈرون اور تین میزائل مار گرائے گئے۔ کیف میں ایک شخص ہلاک ہوا، جبکہ ڈنیپرو میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ریلوے اسٹیشن کو دوبارہ نقصان پہنچا۔ خارکیف اور پولٹاوا کے علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات ملیں۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی اٹھائے گا۔
مزید پڑھیں: ڈنیپرو اسٹیشن پر روسی ڈرون حملہ، 14 افراد ہلاک (https://niazitvnews.com/?p=2758) اور وینس کا ایران کو خط، ٹرمپ کی تردید (https://niazitvnews.com/?p=2773)۔
ماخذ: کیف انڈیپنڈنٹ، ایل بی یو اے، یونائیٹڈ 24 میڈیا اور آر بی سی یوکرین کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔