پٹرول قیمت برقرار، ڈیزل 2.29 روپے مہنگا
وفاقی حکومت نے 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک کے لیے پٹرول کی قیمت برقرار رکھتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.29 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے تحت پٹرول 377.91 روپے فی لیٹر میں دستیاب رہے گا جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 402.96 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نرخ 2 نومبر تک نافذ رہیں گے۔
ڈیزل مہنگا، پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں
جیو نیوز کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نئی قیمتوں کے جدول میں ڈیزل کی پرانی قیمت 399.82 روپے فی لیٹر درج تھی جو اب بڑھ کر 402.96 روپے ہو گئی ہے، یعنی 2.29 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا اور وہ 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔ اے آر وائی نیوز نے بھی انہی نئے نرخوں کی تصدیق کی ہے کہ پٹرول 377.91 روپے اور ڈیزل 402.96 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ڈیزل کی قیمت براہ راست مال برداری، زراعت اور پبلک ٹرانسپورٹ کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے اس اضافے کے اثرات عام صارفین تک پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کے لیے ڈیزل بنیادی ایندھن ہے، اور اس کی قیمت میں ہر اضافہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل کی لاگت بڑھا دیتا ہے۔
روزانہ قیمتوں کا نیا نظام
حکومت نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پٹرولیم قیمتوں کے جائزے کا نظام بھی تبدیل کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظور شدہ نئے فریم ورک کے تحت اوگرا اب پٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر جاری کرے گا۔
نئے نظام کے تحت قیمتیں گزشتہ سات دنوں کی عالمی مارکیٹ کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر طے ہوں گی۔ ریگولیٹر کو روزانہ قیمتیں جاری کرنے کا اختیار ہوگا اور اس کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی۔ تاہم جمعے کو نوٹیفائی کی جانے والی قیمتیں ہفتہ اور اتوار کو برقرار رہیں گی، یہی وجہ ہے کہ 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک کے نرخ ایک ساتھ جاری کیے گئے ہیں۔
پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ کی سات روزہ اوسط کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں، جو بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ہے۔ اوگرا نے شفافیت بہتر بنانے کے لیے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ پٹرولیم قیمتیں شائع کرنا بھی شروع کر دی ہیں تاکہ عالمی قیمتوں میں تبدیلی صارفین تک جلد پہنچ سکے۔
درآمدی انتظامات میں بھی تبدیلی
جیو نیوز نے سرکاری دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے ایندھن کی درآمد کے انتظامات بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ذریعے ہوگی، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے مارکیٹ شیئر کے مطابق پٹرول درآمد کر سکیں گی۔
دستاویز کے مطابق درآمدی یا اٹھان کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والی کمپنیوں کو نو ماہ تک نئی درآمدی اجازت نہیں ملے گی۔ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں بھی روزانہ کی بنیاد پر طے کی جائیں گی، اور متعلقہ حکام کو نئے نظام پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ پٹرولیم لیوی کی حد وفاقی کابینہ کی منظور شدہ حد سے زیادہ نہیں ہو سکے گی، اور لیوی کی شرح میں کسی تبدیلی کے لیے فنانس ڈویژن کی منظوری لازم ہوگی۔
اس سے قبل پٹرولیم قیمتوں میں پندرہ روزہ بنیاد پر ردوبدل ہوتا تھا، جسے بعد میں ہفتہ وار نظام میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اب روزانہ جائزے کا نظام عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں منتقل کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1424
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1287
ماخذ: جیو نیوز اور اے آر وائی نیوز کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس، اوگرا نوٹیفکیشن کے حوالے سے۔