لاہور میں سموگ کریک ڈاؤن: 1763 گاڑیاں جرمانہ
لاہور میں سموگ کے خلاف کریک ڈاؤن تیز ہو گیا ہے۔ ڈان کی 31 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ لاہور میں دھواں چھوڑنے والی 1,763 گاڑیوں پر مجموعی طور پر 55 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جب کہ 739 گاڑیاں بند کر دی گئیں۔ یہ کارروائی لاہور ڈویژن میں فضائی آلودگی کم کرنے کی مہم کا حصہ ہے، جس میں صنعتی یونٹوں، ریسٹورنٹس اور فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف بھی ایکشن لیا جا رہا ہے۔
گاڑیوں اور صنعتوں کے خلاف کارروائی
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں لاہور ڈویژن میں 2,018 صنعتی یونٹوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے آلودگی پھیلانے پر 41 صنعتی یونٹ اور 146 ریسٹورنٹس سیل کر دیے گئے۔ اوورلوڈ گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی ہوئی اور ان سے اضافی سامان اتار دیا گیا۔ یہ تفصیلات لاہور کے کمشنر نعمان یوسف کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کی گئیں۔
اس سے پہلے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کی 28 ستمبر سے 27 اکتوبر تک جاری مہم میں بھی بڑی کارروائی ہوئی تھی، جس میں 197 غیر معیاری اینٹوں کے بھٹے مسمار کیے گئے، 163 یونٹ سیل کیے گئے اور 162 مقدمات درج ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سموگ سیزن کے عروج سے پہلے آلودگی کے ذرائع کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، اور مصنوعی ذہانت والے کیمروں سے بھی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر کیوں بنا ہوا ہے
لاہور گزشتہ ہفتے دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں سرفہرست رہا ہے۔ ڈان کے مطابق 29 اکتوبر کو صبح 10 سے 11 بجے کے دوران آئی کیو ایئر کی عالمی درجہ بندی میں لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 419 ریکارڈ ہوا، جو خطرناک زمرے میں آتا ہے، جب کہ قاہرہ 274 اور دہلی 220 کے ساتھ پیچھے رہے۔ کراچی 165 کے ساتھ عالمی فہرست میں آٹھویں نمبر پر تھا۔
پنجاب حکومت کے فضائی معیار کے ڈیش بورڈ کے مطابق بھی صوبے کے کئی شہروں میں خطرناک سطح ریکارڈ ہوئی، جن میں قصور 348، لاہور 324، فیصل آباد 290، کوٹ ادو 269 اور ڈیرہ غازی خان 267 شامل تھے۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی رپورٹ کے مطابق یکم سے 27 اکتوبر کے دوران لاہور میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 94.1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جب کہ پشاور میں 90.1، اسلام آباد میں 49.3 اور کراچی میں 36.4 ریکارڈ ہوئی۔ لاہور اور پشاور میں قومی حد سے زیادہ آلودگی تمام 27 دنوں میں ریکارڈ ہوئی۔
صحت پر اثرات اور احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق زہریلی ہوا پاکستان میں اوسط عمر تقریباً 3.9 سال کم کر رہی ہے اور ہر سال تقریباً 1,28,000 قبل از وقت اموات کا سبب بن رہی ہے۔ لاہور میں طویل مدتی آلودگی سے عمر سات سال تک کم ہونے کا اندازہ بھی لگایا گیا ہے۔ گاڑیوں کا دھواں لاہور میں پی ایم 2.5 کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کے بعد صنعتی سرگرمیاں 28 فیصد اور روایتی اینٹوں کے بھٹے 17 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ سموگ کے دنوں میں غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں، باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں اور بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں کا خاص خیال رکھیں۔ آنکھوں میں جلن، کھانسی یا سانس میں دشواری کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا، جس سے آنے والے دنوں میں بھی سموگ کی صورت حال برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور میں سموگ اور فضائی آلودگی کی گزشتہ رپورٹ (https://niazitvnews.com/?p=1254) اور پاکستان کا موسم کی تازہ پیش گوئی (https://niazitvnews.com/?p=2796) بھی ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے۔
ماخذ: ڈان، 31 اکتوبر 2026 (یو اے نیوز کے ذریعے)؛ ڈان، 30 اکتوبر 2026؛ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو رپورٹ۔