جی ایس ایل وی ایف 18: بھارت کا نیویگیشن سیٹلائٹ کامیاب
بھارت کی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے 30 اکتوبر کی رات جی ایس ایل وی ایف 18 راکٹ کے ذریعے اگلی نسل کا نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس 03 کامیابی سے خلا میں بھیج دیا۔ راکٹ نے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز کے دوسرے لانچ پیڈ سے رات 11 بج کر 51 منٹ پر پرواز کی اور 18 منٹ بعد 2250 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کو مطلوبہ جیوسنکرونس ٹرانسفر مدار میں پہنچا دیا۔ اسرو نے 31 اکتوبر کی رات 12 بج کر 23 منٹ پر مشن کی کامیابی کا اعلان کیا۔
راکٹ اور سیٹلائٹ کی تفصیل
جی ایس ایل وی ایف 18 تقریباً 50 میٹر بلند، تین مرحلوں والا راکٹ ہے جس کا پرواز کے وقت وزن تقریباً 420 ٹن تھا۔ یہ اسرو کے جیوسنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی) کی 20 ویں پرواز تھی۔ این وی ایس 03 کو 170 کلومیٹر کے پیریجی اور 37023 کلومیٹر کے اپوجی والے بیضوی مدار میں رکھا گیا۔ اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کہا کہ یہ اب تک کی بہترین اور درست ترین پرواز تھی، اور دو مسلسل جی ایس ایل وی مشنوں کے درمیان 56 دن کا وقفہ اب تک کا کم ترین ٹرن اراؤنڈ ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت آج رات نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس 03 خلا میں بھیجے گا
مزید پڑھیں: سپارکو کی عالمی کانفرنس، خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی وارننگ
نیویک نظام کی بحالی
این وی ایس 03 بھارت کے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام نیویک (NavIC) کی دوسری نسل کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، جس کا مقصد انڈین ریجنل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم کی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ اس سیٹلائٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ ایٹمی گھڑی کے ساتھ خریدی گئی ایٹمی گھڑیاں بھی نصب ہیں، اور اس کی مشن زندگی 12 سال ہے۔ اسرو کے چیئرمین کے مطابق اس کامیابی سے نیویک نظام چار فعال سیٹلائٹس کی کم از کم آپریشنل ترتیب پر بحال ہو گیا ہے۔
پچھلی ناکامی کے بعد کامیابی
یہ مشن جنوری 2025 میں این وی ایس 02 کی ناکامی کے بعد خاص اہمیت رکھتا ہے، جب ایندھن کے والو کے کنیکٹر میں خرابی کے باعث سیٹلائٹ اپنے مطلوبہ مدار تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ اس کے علاوہ نیویک نظام ایٹمی گھڑیوں کی بار بار خرابی سے بھی متاثر ہوا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 31 اکتوبر کو اسرو کے سائنسدانوں اور انجینئروں کو کامیاب لانچ پر مبارکباد دی۔ یہ 2026 میں اسرو کا صرف تیسرا مشن تھا — اس سے قبل 12 جنوری کو پی ایس ایل وی سی 62 اور 4 ستمبر کو جی ایس ایل وی ایف 17 کے ذریعے سیٹلائٹس بھیجے گئے تھے۔
آگے کیا ہوگا
اب این وی ایس 03 اپنے انجن کی مدد سے اپنا مدار بلند کر کے حتمی جیوسنکرونس مدار تک پہنچے گا، جہاں سے وہ بھارت اور اس کے گرد 1500 کلومیٹر کے علاقے میں نیویگیشن خدمات فراہم کرے گا۔ سیٹلائٹ میں ایل 1 سگنل بھی شامل ہے، جو موجودہ ایل 5 اور ایس سگنلز کے ساتھ کام کرے گا۔
ماخذ: دی ہندو، نیو انڈین ایکسپریس، اسرو، 30 تا 31 اکتوبر 2026۔