سیالکوٹ بھگدڑ: ٹک ٹاکر کی مہندی میں ایک جاں بحق، 14 زخمی
سیالکوٹ میں معروف ٹک ٹاکر کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پولیس اور ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ ہفتے کی رات ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آیا، جہاں ٹک ٹاکر محمد انصر جٹ عرف مسٹر پتلو کی مہندی اور انعامی تقسیم کی تقریب جاری تھی۔ زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ انتظامیہ نے واقعے کے بعد تقریب روک کر باقی جشن کی اجازت واپس لے لی۔
بھگدڑ کیسے مچی؟
سیالکوٹ پولیس کے مطابق تقریب کے منتظمین نے جیسے ہی اسٹیڈیم کے گیٹ کھولے، باہر انتظار کرنے والا ہجوم اندر داخل ہونے کے لیے ٹوٹ پڑا اور دھکم پیل میں کئی افراد زمین پر گر گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق تقریب میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قرعہ اندازی کا اعلان کیا گیا تھا، جس نے بڑی تعداد میں شائقین کو گراؤنڈ کی طرف کھینچ لیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق گیٹ مقررہ وقت سے پہلے کھولا گیا، جس سے باہر کھڑے ہجوم میں اچانک رش پیدا ہوا۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کی عمریں 22 سے 51 سال کے درمیان ہیں اور ان کا تعلق نارووال، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، خانیوال، اوکاڑہ، سیالکوٹ، گجرات اور بہاولپور سمیت مختلف اضلاع سے ہے۔ ڈان کے مطابق 14 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں 30 سالہ محمد عقیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ سما ٹی وی نے زخمیوں کی تعداد 18 سے زیادہ بتائی ہے، جبکہ بعض مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ نجی کلینکوں میں لے جائے گئے افراد کو ملا کر تعداد 40 سے زیادہ ہو سکتی ہے — تاہم سرکاری طور پر تصدیق شدہ تعداد ریسکیو اور پولیس کی بتائی ہوئی ہے۔
انتظامیہ کا ردعمل
واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ پولیس اور ریسکیو 1122 نے مشترکہ ریسکیو آپریشن کر کے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ ریسکیو ٹیموں نے چار ایمبولینسز اور ایک موٹر سائیکل ایمبولینس کے ذریعے امدادی کارروائی کی۔
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق کے مطابق شادی کی تقریبات کے لیے 31 اکتوبر سے 7 نومبر تک کی اجازت دی گئی تھی، لیکن تقریب انتظامیہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے شروع ہو گئی تھی — اجازت عشا کی نماز کے بعد شروع کرنے کی تھی۔ واقعے کے بعد انتظامیہ نے ہجوم کو منتشر کر دیا اور باقی تقریبات کی اجازت واپس لے لی۔ سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے بتایا کہ ریسکیو سروس کو اس بڑے اجتماع کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
ڈی پی او سیالکوٹ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کے ہر پہلو کی جانچ کی جائے گی تاکہ یہ طے ہو سکے کہ کیا غلط ہوا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انعامی قرعہ اندازی نے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کیا اور گیٹ کھلتے ہی دھکم پیل شروع ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل واقعہ
مسٹر پتلو سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے مقبول ٹک ٹاکر ہیں اور ان کی شادی کی تقریبات سوشل میڈیا پر پہلے ہی زیر بحث تھیں۔ یوٹیوب پر پاکستان میں ٹرینڈ کرنے والی ویڈیوز میں بھی ان کی شادی کا گانا سرفہرست رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تقریب نوجوانوں میں کس قدر مقبول تھی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ بڑے عوامی اجتماعات میں حفاظتی انتظامات، پیشگی اطلاع اور ہجوم کے کنٹرول کا نظام کتنا مضبوط ہونا چاہیے۔
پنجاب میں سوشل میڈیا سے جڑے واقعات پہلے بھی خبروں میں رہے ہیں، جن میں راجب بٹ اور ایمان فاطمہ کے تنازعے میں صلح کی کوششیں (https://niazitvnews.com/?p=1156) اور سدھو موسے والا کے گانے کی پاکستان میں مقبولیت (https://niazitvnews.com/?p=1292) شامل ہیں۔ سیالکوٹ واقعے کی مزید تفصیلات پولیس تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
ذرائع: ڈان، سما ٹی وی، اردو پوائنٹ، 31 اکتوبر 2026۔