فرانس مظاہرے: 3 لاکھ 20 ہزار شرکا، منگل سے اسکول بندش کا اعلان

0

فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی سہولتوں کے خلاف مظاہروں کا تیسرا ہفتہ بھی جاری رہا، جہاں ہفتے کو ملک بھر میں تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا۔ حکام نے 70 ہزار پولیس اور ژاں دارم اہلکار تعینات کیے تھے، جبکہ پیرس میں مارچ کو شہر کے مرکز سے باہر رکھا گیا۔ طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ منگل سے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی بندش کی جائے گی اور 5 نومبر کو مزدوروں کی ہڑتال میں شرکت کی جائے گی۔

تیسرے ہفتے کے مظاہرے کیسے رہے؟

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ہفتے کو ملک بھر میں تقریباً 350 مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ مجموعی صورتحال عموماً پُرامن رہی، تاہم پیرس میں مارچ کے اختتام پر بعض مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیاہ لباس میں ملبوس درجنوں افراد نے پتھراؤ کیا اور پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے جواب دیا۔ جنوبی شہر ٹولوز میں پولیس نے غیر مجاز مظاہرے کے خلاف واٹر کینن استعمال کی۔

حکام کے مطابق پیرس میں 70 ہزار افراد نے مارچ میں حصہ لیا، جبکہ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ دارالحکومت میں تعداد 2 لاکھ تک تھی اور ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ افراد نکلے۔ پولیس نے دوپہر 2 بجے تک 27 گرفتاریاں کیں، جو ایک ہفتہ قبل اسی وقت 217 تھیں۔ اس فرق کو حکام نے سخت سیکیورٹی انتظامات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

70 ہزار اہلکار، کرفیو اور بند میٹرو اسٹیشن

وزیر داخلہ لوراں نونیز نے خبردار کیا تھا کہ ہالووین کی رات بدامنی کا بہت زیادہ خطرہ ہے، خاص طور پر اندھیرے کے بعد۔ پیرس پولیس نے یونین اور یلو ویسٹ مارچوں کو شہر کے مرکز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی اور مظاہرین کو بیرونی بلیوارڈز پر پورٹ ڈی باگنولے سے پورٹ ڈی شارنٹن تک کے راستے پر چلنے کا حکم دیا۔

پیرس میں 40 سے زیادہ میٹرو اسٹیشن بند کیے گئے اور ٹرام سروس متاثر ہوئی۔ ریپبلک اور شاتلے لے ہال علاقوں میں ہفتے اور اتوار (یکم نومبر) کی رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا، جبکہ شاں زے لیزے کے گرد نابالغوں کے لیے رات 9 بجے کا کرفیو لگایا گیا۔ دکانوں نے کھڑکیوں پر تختے لگا لیے تھے تاکہ 17 اکتوبر کے لوٹ مار والے مناظر نہ دہرائے جائیں، جب ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے مظاہرہ کیا تھا اور سینکڑوں دکانوں کو نقصان پہنچا تھا۔

طلبہ کا اگلا اعلان: منگل سے بندش

طلبہ تنظیموں نے پولیس کی جانب سے مرکز سے مارچ کی اجازت نہ ملنے پر ناراضی ظاہر کی اور آئندہ ہفتے نئی بندشوں کا اعلان کیا ہے۔ یونین ایٹیوڈیانٹ کی ترجمان سبرین خرباش نے کہا کہ منگل سے یونیورسٹیوں اور ہائی اسکولوں کی بندش کی جائے گی، جمعرات کو دوبارہ بندش ہوگی اور پھر 5 نومبر کو مزدوروں اور ٹریڈ یونینوں کی ہڑتال میں شرکت کی جائے گی۔

نیشنل یونین آف فرنچ اسٹوڈنٹس کی سیکریٹری جنرل مینون مورے نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کے مطالبات کا ابھی تک کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا ہے۔ حکومت نے پیر کو کچھ اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں یونیورسٹی داخلہ پلیٹ فارم کی تبدیلی اور اسکولوں کی مرمت کے لیے قرضے شامل ہیں، لیکن طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں۔

احتجاج کی جڑیں اور یورپ میں پھیلاؤ

یہ تحریک ہائی اسکول کے طلبہ کے اسکولوں کی حالت کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئی اور پھر مہنگائی، عدم مساوات اور پولیس تشدد کے خلاف وسیع تحریک بن گئی۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا تھا کہ مارچ شہروں کے مرکز سے باہر رہیں گے تاکہ دکانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ فرانس میں صدارتی انتخابات کو صرف چھ ماہ رہ گئے ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین آگے ہیں، جس سے سیاسی ماحول مزید گرم ہے۔

یورپ میں نوجوانوں کے مظاہرے صرف فرانس تک محدود نہیں — جرمنی میں بھی نوجوانوں کے بڑے مظاہرے ہوئے ہیں، جن میں برلن سمیت 30 سے زیادہ شہروں میں 1.7 لاکھ شرکا متوقع تھے (https://niazitvnews.com/?p=2951 فرانس میں اس سے پہلے ہفتے کے مظاہروں پر 70 ہزار پولیس کی تعیناتی کی خبر (https://niazitvnews.com/?p=2886) بھی شائع ہو چکی ہے۔ اب سب کی نظریں منگل کی بندشوں اور 5 نومبر کی ہڑتال پر ہیں۔

ذرائع: دی ہندو، اے ایف پی، کویت ٹائمز، این ڈی ٹی وی، ٹی آر ٹی ورلڈ، 31 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *