فضل الرحمان کی رہائش گاہ کو 15 دن کا نوٹس، مدارس بھی نشانے پر

0

اسلام آباد میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کو غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے 15 دن کا نوٹس دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جے یو آئی سے منسلک مدارس کو بھی تعمیراتی خلاف ورزیوں پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

ڈان اور ٹریبیون کی رپورٹوں کے مطابق سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) نے 30 اکتوبر کو یہ وارننگ نوٹس جاری کیا، جو رہائش گاہ کے باہر چسپاں کیا گیا۔ نوٹس میں سیکٹر جی 6 فور میں واقع مکان میں تین خلاف ورزیاں درج کی گئی ہیں: سیٹ بیکس میں تعمیر، سی ڈی اے کی زمین پر گارڈ پوسٹ، اور سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر کی تنصیب۔

نوٹس میں کیا لکھا ہے

نوٹس کے مطابق مکان کے مالک نے 18 مارچ 2019 کو این او سی جاری ہونے کے وقت حلف نامہ دیا تھا کہ سیٹ بیکس کی خلاف ورزی تین ماہ کے اندر ختم کر دی جائے گی اور تمام ضوابط کی پابندی کی جائے گی۔ سی ڈی اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر 15 دن کے اندر خلاف ورزیاں ختم نہ کی گئیں تو عمارت کو سیل یا مسمار کیا جا سکتا ہے اور الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی کارروائی بھی شروع ہو سکتی ہے۔

ٹریبیون کے مطابق نوٹس امان اللہ ولد محمد یونس کے نام جاری کیا گیا ہے، جنہیں عمارت کا مالک قرار دیا گیا ہے۔ اسی رہائش گاہ پر 18 مارچ 2019 کو بھی سی ڈی اے نے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ یہ رہائش گاہ سیاسی مشاورتوں کا مرکز رہی ہے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی آتے رہے ہیں۔

مدارس کو بھی نوٹس

سی ڈی اے نے بلال ٹاؤن میں کورنگ نالہ کے قریب واقع مدرسہ اختر العلوم کو بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر پر نوٹس دیا ہے اور 15 دن میں نقشے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، ورنہ عمارت سیل کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سیکٹر ایف 8 تھری میں واقع ادارہ معارف اسلامیہ، شریعہ ربانیہ اور تفسیر القرآن میں بھی سیٹ بیکس اور چھت پر غیر قانونی تعمیر کی نشاندہی کی گئی ہے، اور ان کی انتظامیہ کو بھی 15 دن میں خلاف ورزیاں ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

جے یو آئی رہنما مولانا اسجد محمود نے کہا ہے کہ سی ڈی اے نے سیٹ بیک میں اضافی کچن، گارڈ کیبن اور گھر کے باہر جنریٹر پر اعتراض کیا ہے، اور ان کا کہنا تھا کہ تمام ادارے ایک شخص کو نشانہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

حکومت کا مؤقف: مہم بلا امتیاز جاری رہے گی

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے 31 اکتوبر کو ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف مہم سیاسی اثر و رسوخ سے قطع نظر جاری رہے گی اور اس میں زیرو ٹالرنس ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کی رہائش گاہ کو دیا گیا نوٹس ایک معمول کا نوٹس ہے، جس میں چار بائی چار فٹ کے سیکیورٹی کیبن اور جنریٹر کو ہٹانے کے لیے 15 دن دیے گئے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اسی علاقے میں دیگر مکینوں کو بھی اسی نوعیت کے نوٹس دیے گئے تھے اور انہوں نے ان کی تعمیل کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا گرین بیلٹ یا سرکاری زمین پر سیکیورٹی کیبن رکھنا قانونی ہے، اور کہا کہ کوئی نوٹس قانون کے مطابق بنی ہوئی تعمیر کے لیے جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اس میں ہر گلی میں نوٹس دیے گئے ہیں۔

یہ نوٹس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت اور فضل الرحمان کے درمیان آئین کے مبینہ غلط استعمال پر سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ جے یو آئی سربراہ نے حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت والی وفاقی حکومت پر شدید تنقید کی تھی۔

کے پی میں وزیراعظم کے اجلاس کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3027 — 28ویں ترمیم پر سیاسی بحث یہاں دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=3045

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے، تھرسڈے ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *